مسلمانوں کے 38 رکنی وفد کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات ، متعدد امور پر تبادلہ خیال

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 38رکنی اس نمائندہ وفد نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے ہمہ رخی ترقی کے عہد کی ستائش کی اور ان نمائندوں نے مودی حکومت کی اس قدم کی حمایت کی

Jan 19, 2017 07:51 PM IST | Updated on: Jan 19, 2017 07:51 PM IST

نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور( آزادانہ چارج )مختار عباس نقوی اور مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ ایم جے اکبر کی زیرقیادت اہم مسلم نمائندوں، اسکالرس، مذہبی وسماجی نمائندوں کی وزیراعظم مودی کے ساتھ طویل ملاقات کے دوران مسلم مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 38رکنی اس نمائندہ وفد نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کے ہمہ رخی ترقی کے عہد کی ستائش کی اور ان نمائندوں نے مودی حکومت کی اس قدم کی حمایت کی۔

وفد نے وزیراعظم مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے ذریعہ سماج کے تمام طبقات سمیت اقلیتوں کے سماجی ، اقتصادی، تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ تقریبا دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں عازمین حج کی تخفیف شدہ کوٹے کی بحالی کے لئے مودی حکومت کی کوششوں کی ستائش کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ وفد نے بدعنوانی اور بلیک منی کے خلاف مودی حکومت کی پرزور مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ غریبوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی ملے گا۔

مسلمانوں کے 38 رکنی وفد کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات ، متعدد امور پر تبادلہ خیال

اعلی سطحی ذرائع نے بتایا کہ وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ وزارتی اقلیتی امور کی بہبودی اسکیموں کا اثر اب زمین پر نظر آنے لگا ہے۔ وفد نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور دنیا کے تمام ملکوں سے اس کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی ستائش کی۔ اس نمائندہ وفد کے اہم شرکاء میں آل انڈیا سنی اسکالر آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری ابوبکر احمد المالاباری، سپریم کورٹ کے سابق جج ایم وائی اقبال،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کے وی سی ضمیر الدین شاہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر طلعت احمد، معروف صحافی وسابق ممبر پارلیمنٹ شاہد صدیقی، بین الاقوامی دفاعی امور کے ماہر قمر آغا، اجمیر درگاہ کے دیوان سید زین العابدین علی خان وغیرہ شامل تھے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز