مسلم رہنما اور سابق ممبر پارلیمنٹ سید شہاب الدین کا انتقال، تدفین پنج پیران قبرستان میں بعد نماز ظہر

Mar 04, 2017 08:36 AM IST | Updated on: Mar 04, 2017 11:55 AM IST

نئی دہلی۔ سابق ممبر پارلیمنٹ‘ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر ریٹائرڈ آئی ایف ایس جناب سید شہاب الدین کا آج یہاں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ان کی نماز جنازہ اور تدفین آج بعد نماز ظہر پنج پیران قبرستان‘ بستی حضرت نظام الدین میں ادا کی جائے گی۔ مسٹر سید شہاب الدین کی عمر تقریباً82 سال تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ اور چار بیٹیاں ہیں۔ ا ن کے اکلوتے بیٹے کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔

جھارکھنڈ کے رانچی میں پیدا ہونے والے سید شہاب الدین اپنے زمانے میں انڈین فارن سروس (آئی ایف ایس) کے ٹاپر تھے ، آئی ایف ایس کی حیثیت سے کئی ملکوں میں انہوں نے ہندستانی سفارت خانوں میں خدمات انجام دی تھیں۔ آئی ایف ایس سروس چھوڑ کر وہ سیاست میں آگئے تھے ۔ 1979 سے 1996 تک وہ پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ انہوں نے بابری مسجد کی بازیابی کے لئے بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی جس کے وہ سربراہ بھی تھے۔ سید شہاب الدین نے مسلمانوں کی دل آذاری کرنے والی سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ پر ہندستان میں پابندی لگائے جانے کے لئے اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ مرحوم سید شہاب الدین نے شاہ بانو کیس میں مسلمانوں کا موقف پیش کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ طویل عرصہ سے سرگرم سیاست سے دور تھے۔

مسلم رہنما اور سابق ممبر پارلیمنٹ سید شہاب الدین کا انتقال، تدفین پنج پیران قبرستان میں بعد نماز ظہر

مسٹر سید شہاب الدین کے گھر والوں نے یو این آئی کوبتایا کہ وہ تنفس کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہیں گذشتہ18فروری کونوئیڈا کے جے پی اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا تھا ‘ جہاں آج صبح 5بجکر 22منٹ پر انہوں نے آخر ی سانس لی۔ اس وقت ان کی چاروں بیٹیاں اور دیگر اعزہ و اقارب بھی ان کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مسٹر سید شہاب الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہربستی حضرت نظام الدین کے پنج پیران قبرستان میں اد ا کی جائے گی اور بعد میں وہیں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔

انہوں نے 1989 میں انصاف پارٹی تشکیل دی تھی جسے ایک سال کے اندر ہی تحلیل بھی کر دیا تھا۔ وہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے پیروکار کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور ان کی رائے میں حکومت کی ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شراکت داری ہونی چاہئے تھی۔ وہ کئی مسلم اداروں اور تنظیموں سے بھی منسلک رہے ۔ وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے 2004 سے 2007 کے درمیان صدر بھی رہے۔ وہ  1983 سے 2002 کے درمیان اور جولائی 2006 سے ماہانہ جرنل مسلم انڈیا کے ایڈیٹر رہے ۔ وہ تازہ واقعات پر ٹی وی پر ہونے والے مباحثوں میں بھی مسلسل حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے پاکستان سے لے کر سعودی عرب کے کئی اخبارات میں مختلف موضوعات پر کئی مضامین لکھے۔ سید شہاب الدین کی ایک بیٹی پروین امان اللہ، جو سبکدوش آئی اے ایس افسر مسٹر افضل امان اللہ کی بیوی ہیں، فی الحال عام آدمی پارٹی کی بہار کی لیڈر ہیں۔ وہ بہار کی نتیش حکومت میں وزیر بھی رہ چکی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز