ٹوٹ جائے گی جے ڈی یو ؟ مسلم لیڈران چھوڑ سکتے ہیں نتیش کمار کا ساتھ

Jul 27, 2017 06:45 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 09:36 PM IST

نئی دہلی: نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میں جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرد یادو کی غیر موجودگی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹے میں بہار کے سیاسی ڈرامے کے درمیان شرد یادو کی خاموشی بھی قابل غور ہے۔ تاہم اس پورے سیاسی واقعات کے درمیان شرد یادو نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمار کے این ڈی اے میں جانے سے شرد یادو کافی ناراض ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ جمعرات کو نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میں شرکت کیلئے شرد یادو پٹنہ نہیں گئے۔ اس دوران وہ دہلی میں ہی موجود رہے۔ ان کے علاوہ جے ڈی یو کے ممبر پارلیمنٹ علی انور اور وریندر کمار بھی نتیش کے قدم سے ناراض ہیں۔ اس سلسلہ میں جمعرات کی شام پانچ بجے پارٹی کے ناراض لیڈران شرد یادو کے گھر ان سے ملاقات کرنے کیلئے پہنچے ۔

ادھر  وزیر اعلی نتیش کمار کا بی جے پی کے ساتھ جڑنا جنتا دل یونائٹیڈ کو بھاری پڑ سکتا ہے۔ پارٹی میں مسلم لیڈران اس خوش نظر نہیں آرہے ہیں۔ مغربی بنگال میں جنتا دل یونائٹیڈ کے نائب صدر محمد رافع محمود صدیقی نے یہ انتباہ دیا ہے۔رافع کا کہنا ہے کہ اگر نتیش کے فیصلے کو پارٹی نے قبول کرلیا ، تو مسلم لیڈران پارٹی چھوڑ دیں گے اور پارٹی کو کافی بڑا نقصان ہونے والا ہے۔

ٹوٹ جائے گی جے ڈی یو ؟ مسلم لیڈران چھوڑ سکتے ہیں نتیش کمار کا ساتھ

جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ 'ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہماری پارٹی کیا فیصلہ کرتی ہے۔ پارٹی صرف نتیش جی کی اکیلے کی نہیں ہے، یہ ایک یونٹ ہے، بہت سارے ممبران پارلیمنٹ اورا راکین اسمبلی ہیں، ہم سب مل کر فیصلہ کریں گے، اگر پارٹی نتیش جی اور بی جے پی کے ساتھ گئی تو بہت بڑا نقصان ہونے والا ہے۔ بہت سے مسلم لیڈران پارٹی چھوڑ دیں گے۔ یہ آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔

رافع نے آگے کہا کہ 'مغربی بنگال یونٹ انتظار کر رہی ہے۔ بہت بڑی تعداد میں مسلمان اور سیکولر لوگ پارٹی چھوڑدیں گے۔ نتیش جی کی حکمت عملی کے ساتھ نہیں رہیں گے اور خود شرد یادو کبھی نہیں چاہیں گے ہم بی جے پی کے ساتھ جائیں، علی انور کا بیان آ ہی چکا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے بہار کی سیاست میں جاری اتھل پتھل کے واقعات میں کل شام پہلے نتیش کمار نے تیجسوی یادو کی بدعنوانی کے معاملہ پر استعفی دے کر مہا گٹھ بندھن کو توڑا تو ان واقعات پر پہلے سے نظریں جمائے بیٹھی بی جے پی نے نتیش کے استعفیٰ کے فوری بعد ہی انہیں اپنی حمایت دینے کا اعلان کر دیا اور پھر اس کے بعد نتیش کمار نے بی جے پی کی حمایت سے بہار میں وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لے لیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز