پڑھیں : اترپردیش میں نکاح کا رجسٹریشن لازمی قرار دئے جانے پر علما کا کیا ہے کہنا ؟ 

Aug 03, 2017 12:04 AM IST | Updated on: Aug 03, 2017 12:05 AM IST

بریلی: اترپردیش میں 'شادی کے رجسٹریشن کو لازمی کئے جانے کے سلسلے میں مسلم علماء اور مسلم سماجی کارکنان اسے غیر مناسب بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم معاشرے میں ہونے والا نکاح نامہ ہی اپنے آپ میں ایک رجسٹریشن ہے اس دوران تمام طریقہ کار مکمل ہو جاتا ہے جو اپنے آپ میں ایک مکمل رجسٹریشن ہے لہذا مسلمانوں کے لئے شادی رجسٹریشن لازمی نہیں ہونا چاہئے بلکہ نکاح نامہ کو ہی باضابطہ رجسٹریشن کا درجہ دے دینا چاہیے۔

مسلم شادی رجسٹریشن کو لازمی کئے جانے کے حکم کے تناظر میں مسلم علماء و دانشوروں کے مابین تبادلہ خیال اور ان کی رائے جاننے کے لیے علماء اور مفکرین کا جلد ہی دہلی میں اجتماع ہوگا۔ آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے قومی جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوي نے کہا کہ علاحدہ طورپر شادی کا رجسٹریشن ضروری نہیں ہے اس لئے ہر شہر میں قاضی اور نکاح پڑھانے والے عالم دین ہوتے ہیں، ان کے پاس نکاح کا رجسٹر ہوتا ہے ۔ رجسٹر میں دولہا دلہن کی بنیادی ضروری تفصیلات درج ہوتی ہیں، ساتھ ہی قاضی کا نام ایک وکیل اور دو گواہ کی تفصیل بھی درج ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے میں یہ طریقہ برسوں سے چلا آ رہا ہے جو ایک طرح کا رجسٹریشن ہی ہے۔

پڑھیں : اترپردیش میں نکاح کا رجسٹریشن لازمی قرار دئے جانے پر علما کا کیا ہے کہنا ؟ 

file photo

مسٹر رضوي نے بتایا کہ آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے بینر تلے مسلم شادی رجسٹریشن کو لازمی کئے جانے کے حکم کے تناظر میں مسلم علماء و دانشوروں کی دہلی میں میٹنگ ہوگی۔ میٹنگ کا ایجنڈا تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ کہنا کہ جو مسلم شادی رجسٹریشن نہیں كرائیں گے انہیں ریاستی حکومت کی سہولیات نہیں ملیں گی۔ یہ ہندوستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ہندوستان کے شہری کو آئین کے ذریعہ دی گئی سہولیات سے محروم کرنا ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام مسلم دانشوروں کو دہلی کی میٹنگ میں آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ میٹنگ کی تاریخ طے کرنے کیلئے بات ہو رہی ہے۔ تنظیم علماء اسلام کے سیکرٹری مولانا ضیاء مصطفی کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت کا یہ فیصلہ غیر ضروری ہے۔ مسلم سماج کو اس رجسٹریشن کے لیے مستثنی رکھ کر کیا جائے، اس کے لیے انہیں پابند نہ کیا جائے۔ سماجی ادارے آل مسلم رابطہ کمیٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ مسلمانوں کو شادی کےرجسٹریشن کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ان کا نکاح نامہ ہی اپنے آپ میں ایک مکمل رجسٹریشن ہے۔ نکاح نامہ کو ہی رجسٹریشن کی منظوری دے دینی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز