سدھارتھ نگر میں کمزور ہوتی مسلم قیادت سے مسلمانوں میں شدید بے چینی

فی الحال سماجوادی پارٹی میں جاری خاندانی جھگڑے نے دہائیوں سے پارٹی کے ساتھ رہنے والے کمال یوسف کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے۔

Feb 04, 2017 02:07 PM IST | Updated on: Feb 04, 2017 02:12 PM IST

ڈومریاگنج۔ اترپردیش کے شمال مشرقی علاقہ میں واقع ضلع سدھارتھ نگرایک مسلم اکثریتی ضلع ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریبا۳۰؍فیصد ہے۔ یہاں کئی اہم شخصیات نے جنم لیا جن میں مجاہد آزادی، مفسرقرآن مولاناعبدالقیوم رحمانیؒ،قاضی عدیل عباسیؒ،قاضی جلیل عباسی ؒ،پربھودیاودریاتھی وغیرہ بطورخاص شامل ہیں۔ نیپال سرحد سے متصل سدھارتھ نگراس سے پہلے ضلع بستی کا ہی ایک حصہ تھا جو۲۹؍دسمبر۱۹۸۸؁ء کوبستی سے الگ ہوکرایک مستقل ضلع بنا۔۲۰۱۱کی مردم شماری کے مطابق اس کی کل آبادی ۲۵؍لاکھ۵۳؍ہزار۵۲۶؍ ہے۔ یہاں کی شرح خواندگی ۶۷؍فیصد ہے۔ ضلع میں پانچ اسمبلی حلقے ڈومریاگنج، اٹوا، بانسی،شہرت گڑھ اورنوگڑھ ہیں۔ پارلیمانی حلقہ ڈومریاگنج کے نام سے معروف ہے۔

تاہم، اکثریتی ضلع ہونے کے باوجود آزادی کے بعد سے یہاں سے صرف دومسلم چہرے ہی پارلیمنٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے جس میں مجاہدآزادی قاضی جلیل عباسی مرحوم اورالحاج محمد مقیم ہیں۔ اسی طرح یہاں کے ڈومریاگنج اسمبلی حلقہ کی بات کریں تو اس حلقہ میں ہمیشہ مسلم لیڈران ہی آگے رہے ہیں، جس میں سابق ریاستی وزیر اورڈومریاگنج حلقہ سے موجودہ رکن اسمبلی کمال یوسف ملک اورتوفیق احمد ملک مرحوم رہے ہیں۔ پورے حلقہ میں دونوں کی مقبولیت یکساں رہی ہے۔  جس کے چلتے دونوں ڈومریا گنج حلقہ سے کئی بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ توفیق احمد کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ  خاتون توفیق نے ضمنی الیکشن لڑا اور انہیں جیت ملی۔ لیکن دو ہزار بارہ کے الیکشن میں ان کی بیٹی سیدہ خاتون،  کمال یوسف سے ہار گئیں۔

سدھارتھ نگر میں کمزور ہوتی مسلم قیادت سے مسلمانوں میں شدید بے چینی

محمد مقیم، کانگریس لیڈر وسابق ایم پی

  لیکن دو ہزار سترہ کے الیکشن میں سیاسی ہوا کا رخ کچھ تبدیل ہوتا نظرآرہا ہے، جس سے مختلف قسم کی قیاس آرائیا ں جنم لینے لگی ہیں۔ فی الحال سماجوادی پارٹی میں جاری خاندانی جھگڑے نے دہائیوں سے پارٹی کے ساتھ رہنے والے کمال یوسف کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے۔ پارٹی نے ان کا ٹکٹ کاٹ کرنوجوان لیڈررام کمارچنکویادوکوڈومریاگنج سے ٹکٹ دے دیا ہے جس سے کمال خیمے میں بے چینی بڑھنے کے ساتھ ساتھ عمومی طور پر مسلمانوں میں بھی شدید بے چینی بڑھ گئی ہے۔ تقریباً ۳۰؍فیصد مسلم آبادی والے سدھارتھ نگرضلع میں ۵؍اسمبلی سیٹوں پرمختلف سیاسی جماعتوں سے ۴؍مسلم امیدوارمیدان میں ہیں جن میں حزب اقتدارنے مسلم مخالف رویے کا اظہارکرتے ہوئے پورے ضلع میں ایک بھی سیٹ پرمسلم امیدوارنہیں اتارا حالانکہ ڈومریاگنج کی سیٹ مسلم امیدوارکے لیے ہمیشہ خاص رہی ہے ۔

پیس پارٹی، بی جے پی میں بھی مسلم امیدوارنہیں ہیں۔ جبکہ بہوجن سماج پارٹی نے تین سیٹوں ڈومریا گنج سے سابق رکن اسمبلی مرحوم توفیق احمد کی بیٹی سیدہ خاتون ،اٹوا سے ارشد خورشید اورشہرت گڑھ حلقہ سے جمیل صدیقی کوٹکٹ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یوپی میں نووارد مجلس اتحادالمسلمین نے بھی ایک امیدوارکومیدان میں اتارا ہے جس سے سیاسی پارہ انتہائی گرم ہوچکا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یوپی میں حکمراں جماعت نے بقول ملائم سنگھ سدھارتھ نگرمیں مسلم امیدواروں کونظراندازکیا جس کاخمیازہ انہیں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ضلع سدھارتھ نگرمیں مسلم قیادت کی کمزورہوتی طاقت کو دیکھتے ہوئے مسلم دانشوران میں خاصی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اگرحالات یہی رہے تووہ وقت دورنہیں، جب یہاں سے مسلم قیادت بالکل مفقود ہوکررہ جائے۔اب جبکہ یوپی میں حزب اقتدارنے ڈومریاگنج سے موجودہ رکن اسمبلی کمال یوسف ملک کاٹکٹ کاٹ دیا ہے اس سے اندازہ ہوتاہے شاید ان کاسیاسی کیریئراختتام کے قریب ہے کیونکہ گزشتہ الیکشن میں انہوں نے پیس پارٹی سے الیکشن لڑااوروہاں دغابازی کی ۔ کانگریس پارٹی سے امیدوارنہیں آسکتے،اسی طرح مجلس اتحادالمسلمین جوکہ ابھی غیرمقبول ہے اس میں شمولیت کرنا ذرامشکل ہے۔ ہاں اگریہ ڈومریا گنج حلقہ سے بی ایس پی کی طرف سے میدان میں موجودامیدوارسیدہ خاتون کاساتھ دیدیتے ہیں جوکہ ان کے قریبی رشتہ داربھی ہیں توہرحا ل میں مسلم قیادت کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی قوی امید ہے ۔

Loading...

سیدہ خاتون، امیدوار، ڈومریا گنج، بی ایس پی سیدہ خاتون، امیدوار، ڈومریا گنج، بی ایس پی

ایس پی نے جس امیدوارکومیدان میں اتارا ہے نوجوانوں میں اس کے تئیں جوش وخروش کافی دیکھنے کومل رہاہے لیکن علاقہ کے بزرگوں کے ذریعہ بعض ایسی باتیں سننے میں آ رہی ہیں جس سے رام کماریادوکی مسلم مخالفت سرگرمی ظاہرہوتی ہے۔ یوپی میں سپا اورکانگریس کے اتحاد کی وجہ سے ڈومریاگنج اسمبلی حلقہ میں سپاکوکافی امیدیں ہیں لیکن مدمقابل سیدہ خاتون بھی سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے عوام وخواص میں کافی مقبول لیڈرہیں۔علاقائی لوگوں کے مطابق سیدہ خاتون کے مقابل میں کوئی امیدوارنہیں ہے ، لیکن اس طرح کی باتیں کرناقبل ازوقت ہوگا۔ اب یہ دیکھنادلچسپ ہوگاکہ یہاں کے رائے دہندگان کا حتمی رحجان کس جانب ہےاورفیصلہ کس کے حق میں آتاہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز