ہندوستانی مسلمان سیاسی متبادل تلاش کرنے کے ساتھ اپنوں میں لیڈرشپ پیدا کریں: تنویر عالم

Jan 09, 2017 12:34 PM IST | Updated on: Jan 09, 2017 12:36 PM IST

نئی دہلی۔  اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مہاراشٹر کے صدر اور سماجی کارکن تنویر عالم نے اترپردیش اسمبلی انتخاب کومسلمانوں کے لئے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی ہے یہ الیکشن ان کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ سیاسی متبادل تلاش کرنے کے ساتھ اپنوں میں سے لیڈر شپ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے یہاں جاری ایک بیان میں دعوی کیا کہ آزادی کے بعد مسلمان کسی نہ کسی پارٹی سے منسلک رہ کران کا ووٹ بینک بنے رہے اور یہاں کی سیاسی پارٹیوں نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کی حالت دلتوں سے بدتر ہوگئی ۔آج صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ وہ خوف و دہشت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو خوف زدہ کرکے ان کے ساتھ  بندھوا مزدور کی طرح سلوک کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں نے گزشتہ دو تین دہائی کے دوران اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کرکے اس مقام تک رسائی حاصل کرلی ہے جہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنی پالیسی، منصوبہ،یا منشور بناتے وقت انہیں نظر انداز کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔جب کہ مسلمان ان سے زیادہ تعلیم یافتہ، عقل مند اور سیاست میں تھے۔ مسٹر عالم نے کہا کہ اترپردیش میں مسلمان کبھی کانگریس، کبھی سماج وادی پارٹی تو کبھی بہوجن سماج پارٹی کی دست نگر بنے رہے۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے یکطرفہ ووٹ سے اقتدار کی سیڑھی چڑھتی رہیں لیکن مسلمانوں کی ترقی اور مسلمانوں کو خوف و ہراس کے ماحول سے نکالنے کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے گزشتہ پانچ سال کے اقتدار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی نے مسلمانوں کو دکھ درد دینے کے لئے علاوہ کچھ نہیں کیا اور 2012 کے انتخابی منشور کا اہم وعدہ مسلمانوں کو 18فیصد ریزرویشن پر ان پانچ برسوں کے دوران اس حکومت نے ایک لفظ نہیں بولا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سینکڑوں فسادات ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان سیاسی طور پر بالغ نظر ہونا چاہتے ہیں تو پارٹیوں کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹ دینے کی پالیسی اپنانی ہوگی اور کسی ایک پارٹی کا زرخرید غلام بننے والا رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی کوئی سیاسی پارٹی ان کے مسائل کو حل نہیں کرسکتی جب تک وہ خود اپنے مسائل حل کرنے کی حالت میں نہ پہنچ جائیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے لوگوں کے درمیان سے لیڈر شپ پیدا کریں جو ان کے مفادات، ان کی ضرورت اور ان کی شکایت کو سمجھ کر حل کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش سمیت پورے ملک کے مسلمان اس بات سے فکر مند ہیں کہ سماج وادی پارٹی میں داخلی انتشار پیدا ہوگئی ہے مگر ان کو اپنے داخلی انتشار کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے اسی داخلی انتشار سے یہاں کی سیاسی پارٹیوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔

ہندوستانی مسلمان سیاسی متبادل تلاش کرنے کے ساتھ اپنوں میں لیڈرشپ پیدا کریں: تنویر عالم

 تنویر عالم نے اترپردیش کی موجودہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر مسلمانوں کومتحد رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی بہار کی طرح طریقہ کار اپنانا چاہئے۔ انہوں نے اے ایم یو اولڈ بوائز سے اپیل کی کہ وہ اپنی ملی فرائض سمجھیں اور اس سمت کچھ کرنے کی پہل کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز