مجلس مشاورت کا وزیر اعظم مودی کو خط ، تعصب ، تشدد اور غیر جانبدارانہ ماحول امن کیلئے خطرناک

Jun 28, 2017 07:45 PM IST | Updated on: Jun 28, 2017 07:45 PM IST

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے وزیر اعظم مودی پر زور دیا ہے کہ گئو رکھشا کے نام پر لگاتار تشدد اور جنونی بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کے مارے جانے کے ایک سے زیادہ واقعات پر فوری قابو پایا جائے اوراس آئین کی مکمل پاسداری کی جائے ’’جس پر آپ نے تین سال قبل حلف لے کراقتدار سنبھالا تھا‘‘۔ وزیر اعظم کے نام مکتوب میں جس کی نقل پریس کو بھی جاری کی گئی ہے مشاورت کے صدر نوید حامد نے اس یقین اورامید کے ساتھ مرکزی حکومت آنے والے دوبرسوں میں ملک کے 125 کروڑ عوام کی سلامتی اور ترقی کی پابند ہو گی اس پر عمل کریگی،عین عید کے موقع پر ایک سولہ برس کے معصوم طالب علم کی جوچھٹیوں میں اپنے گھر آیا تھا اور عید کی خریداری کے بعد دہلی سے بلبھ گڑھ ای ایم یو ٹرین سے لوٹ رہا تھا،ایک جنونی بھیڑ کے ہاتھوں چلتی ہوئی ٹرین میں مار دیئے جانے کو انتہائی سفاکانہ اور صد لائق مذمت قرار اور کہا کہ اس طرح کے تشدد کے پیش نظر’’ہندوستانیوں کے لیے اچھے دنوں کا نظریہ بے اعتمادی اورخوف کے اس ماحول میں گم ہوتا جارہا ہے جو ان تنظیموں نے پیدا کیا ہے، جن میں سے کچھ آپ کی پارٹی اور کچھ آر ایس ایس سے وابستہ ہیں‘‘۔

مسٹر حامد نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’یہ بات آپ کے لیے بھی پریشان کن ہوگی کہ ان تنظیموں اورعناصر کی حرکتوں سے ملک میں خوف اور نفرت کا جو ماحول بن گیا ہے اس نے صنعت اورتجارت کے لیے سازگار اورمستحکم ماحول پیدا کرنے کے کوششوں کو پٹری سے اتار دیا ہے‘‘۔

مجلس مشاورت کا وزیر اعظم مودی کو خط ، تعصب ، تشدد اور غیر جانبدارانہ ماحول امن کیلئے خطرناک

مشا ورت کی طرف سے جاری ریلیز کے مطابق مکتوب میں مسٹر مودی کی توجہ ’گؤ رکھشا‘ کے نام پر لگاتار تشددکی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نے زرعی معیشت کے تباہ ہوجانے کے اندیشے پیدا کردئے ہیں۔ گاو کشی کی روک تھام کے نام پر جو زیادتیاں کی جارہی ہیں اس کے نتیجے میں بھینس اوردیگرمویشیوں کے گوشت کی پیداوار کو بھی بری طرح متاثر کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے آدی واسیوں، دلتوں اوردیگرمحروم طبقوں اور اقلیتوں کو، جن کی عظیم اکثریت خط افلاس سے نیچے ہے، کم خرچ پر پروٹین کے ذرایع سے محروم کردیا ہے۔

مکتوب میں الزام لگایا گیا ہے کہ مذبح خانوں کیخلا ف ضابطہ کے نام پر کاروائیوں نے جہاں چھوٹے اورمنجھولے میٹ تاجروں کے کاروبار کو بند کرادیا ہے وہیں نہ صرف کارپوریٹ گھرانوں کو گوشت ایکسپورٹ کے نفع بخش کاروبار کی طرف راغب کیا جارہا ہے بلکہ ان کارپوریٹ گھرانوں کو مارکیٹ میں فروزن پیکٹ میٹ مارکٹنگ کرنے کا بڑھاوا دیا جارہا ہے۔

مسٹر حامد نے اس استدلال سے بھی کام لیا کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں ان میں ریاستی سرکاروں کی مبینہ سرپرستی میں بجرنگ دل کھلے عام اسلحہ کی ٹریننگ دے رہا ہے اور الزام لگا یا کہ کئی جگہ گؤ رکشکوں کی طرف سے ترشولوں کی تقسیم سے تشدد پر اکسانے کی کھلی کوشش ہورہی ہے۔ دوسری طرف جب بھی کوئی لیڈر یا سماجی کارکن ان سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کو فرضی الزامات میں دھردبوچا جاتا ہے۔

مشاورت رہنما نے کسی ہندستانی مسلمان کے داعش یا دوسری دہشت گرد تنظیموں کے جال میں نہ پھنسنے کی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی اطمینان بخش تصدیق کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی سے پر زور اپیل کی کہ موجودہ حالات سے مایوس نوجوانوں کو اس طرح کے خطرات سے دوررکھنے کے لیے بہت کچھ اقدامات کئے جائیں ورنہ تعصب ، تشدد اور غیر جانبدارانہ ماحول ملک کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز