جنید خان کے قتل کے بعد مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس ، برقع پہن کر ریلوے میں سفر کرنے پر مجبور

Jul 05, 2017 12:47 PM IST | Updated on: Jul 05, 2017 12:49 PM IST

علی گڑھ : ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں 16 سالہ معصوم نوجوان جنید خان کے قتل کے بعد سے ملک بھر میں اقلیتوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے اور ٹرین میں چڑھنے سے ڈرنے لگے ہیں ۔ مسلمانوں میں خوف کا عالم کیا ہے کہ اس کی تازہ مثال اتوار کو علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر اس وقت دیکھنے کو ملی جبکہ ایک مسلم شخص برقع پہن کر ٹرین میں سفر کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ اتوار (2 جولائی) مسافروں کو 42 سال کے نجم الحسن  کی حرکتوں کو دیکھ کر شک ہوا، جی آر پی کو اس کی معلومات دی گئی اور ان کے حسن کو پکڑنے کے بعد پتہ چلا کہ برقع میں کوئی خاتون نہیں بلکہ ایک مرد تھا۔ جی آر پی کی تفتیش میں حسن نے بتایا کہ وہ اپنی شناخت کو چھپائے رکھنا چاہتا تھا، کیونکہ بطور مسلمان اسے یہ ڈر ستا رہا تھا کہ بھیڑ کی طرف سے پیٹ پیٹ کر اس کا قتل کیا جا سکتا ہے۔ حسن کے مطابق حال ہی میں بلبھ گڑھ میں 16 سالہ جنید کے قتل کی خبر سے وہ انتہائی خوفزدہ ہے۔

جنید خان کے قتل کے بعد مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس ، برقع پہن کر ریلوے میں سفر کرنے پر مجبور

حسن نے بتایا کہ وہ اکثر و بیشتر دہلی کا سفر کرتا رہتا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ہی غلطی سے اس سے ایک شخص کو دھکا لگ گیا تھا ، جس کے بعد دوسرے شخص نے مذہب کو بنیاد بنا کر اس کی (حسن) توہین کی، اس شخص نے اس کو دھمکی دی کہ وہ اس کا شہر میں رہنا مشکل کر دے گا۔ اس واقعہ کے بعد حسن نے پولیس کو بتایا کہ وہ کافی خوفزدہ تھا اور اسی لئے برقع پہن کر سفر کرنے کا فیصلہ کیا ۔ حسن کو پولیس نے پوچھ گچھ کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔ حسن گزشتہ اتوار کو اپنے بیمار کزن سے ملنے کے لئے دہلی کا سفر کررہا تھا۔

ادھر خبروں کے مطابق پولیس ایس ایس پی راجیش پانڈے کا کہنا ہے کہ حسن کے دعوی کی تصدیق کی گئی ہے اور فی الحال اس کے اس دعوی میں کچھ بھی غلط نہیں پایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حسن کو جب جی آر پی کو سونپا گیا، تو وہ بری طرح کانپ رہا تھا اور رو رہا تھا، وہ صرف ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ وہ ایک براہ سیدھا سادھا آدمی ہے اور اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز