فوری طور پر تین طلاق کو غلط مانتے ہیں یہ پانچ بڑے مسلم ادارے، لیکن!۔

Apr 13, 2017 09:02 AM IST | Updated on: Apr 13, 2017 09:02 AM IST

نئی دہلی۔ ملک کے پانچ بڑے مسلم ادارے فوری طور پر تین طلاق کے معاملے پر ایک رائے نظر آتے ہیں۔ ان اداروں کا خیال ہے کہ قرآن میں تین طلاق کا تو ذکر ہے لیکن فوری طور پر طلاق دینے کو اس میں صحیح نہیں مانا گیا ہے۔

یہ ادارے بھی فوری طور پر تین طلاق اور تین طلاق کو دو الگ مسئلہ مانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بعض صورتوں میں طلاق دینے کا طریقہ غلط ہے۔ یہ ادارے فوری طور پر طلاق کے طریقوں کے خلاف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر تین طلاق دے دی گئی ہے تو اس طلاق کو جائز تصور کیا جائے گا۔

فوری طور پر تین طلاق کو غلط مانتے ہیں یہ پانچ بڑے مسلم ادارے، لیکن!۔

علامتی تصویر: گیٹی امیجیز

تین طلاق دینے کے طور طریقے پر پانچوں ادارے مل بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔ کچھ لوگ مرکزی حکومت کے ساتھ بھی بات کرنے کو راضی ہیں، بشرطیکہ حکومت پہلے اپنی منشا ظاہر کرے کہ وہ تین طلاق کے معاملے پر آخر چاہتی کیا ہے۔

Teen-Talaq-for-Web_revised_R222

فوری طور پر تین طلاق کے مسئلہ پر نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام نے ملک میں مسلمانوں کے پانچ بڑے اداروں سے وابستہ اہم لوگوں سے ان کی رائے جانی۔ تین طلاق کے معاملے پر سب ایک رائے ہیں۔ قرآن میں بھی تین طلاق کے ذکر ہونے کی بات کہتے ہیں۔ لیکن ایک ساتھ تین طلاق دئے جانے کی بات سے انہیں بھی پرہیز ہے۔ ان اداروں میں دیوبند، بریلی اور ندوہ مدرسہ کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور آل انڈیا شیعہ مسلم پرسنل لاء بورڈ شامل ہیں۔

 

آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر کے مطابق، 'تین طلاق کے بارے میں قرآن جو کہتا ہے ہم اسی کو مانتے ہیں۔ وہ لوگ جو ایک ساتھ مسلسل تین بار طلاق بول دیتے ہیں اس میں تبدیلی ہونی چاہئے۔'

Nadwa-11

سلمی انصاری اپنی بات پر قائم، بولیں، لیکن اسے سرکاری بیان نہ سمجھیں

نائب صدر حامد انصاری کی بیوی سلمی انصاری کے مطابق، 'قرآن میں تین طلاق کا ذکر نہیں ہے۔' سلمی یہی بات پہلے بھی کہہ چکی ہیں۔ دراصل نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام سے ہوئی بات چیت میں سلمی نے اپنی اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ، 'یہ باہمی بحث کا مسئلہ ہے، اسے میرا سرکاری بیان نہ مانا جائے۔

ناصر خان کی رپورٹ

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز