امرناتھ یاتریوں پر حملہ: مختلف مسلم رہنماوں اور تنظیموں نے کی مذمت، پڑھیں کس نے کیا کہا

Jul 11, 2017 08:42 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 08:49 PM IST

نئی دہلی۔ وادی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر کل دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا تھا جس میں 7 عقیدت مندوں کی موت ہوگئی اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔اس حملہ کی چوطرفہ مذمت کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کئے جانے کی مانگ کی جا رہی ہے۔ اسی ضمن میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے امرناتھ یاتریوں پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ اور ظالمانہ عمل قرار دیا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف مجرمانہ عمل ہے ، جس کا کسی مذہب اور عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔انھوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جنگ کے حالات میں بھی عبادت گزاروں اور خواتین پر حملے کی اجازت نہیں ہے ۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند دہشت گردی کے خلاف پچھلی دو دہائیوں سے تحریک چلا رہی ہے، اس نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مذہب اورعقیدے سے اوپر اٹھ کر مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ مولانا مدنی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس حملے سے تقسیم کرنے و الوں کے منفی عزائم و مقاصد ہر گز پورے نہیں ہوں گے ، کیوں کہ ملک کے سبھی طبقات بالخصوص ہندو ، مسلمان او رکشمیری عوام ایسے بزدلانہ حملے کے خلاف متحد ہیں ۔

امرناتھ یاتریوں پر حملہ: مختلف مسلم رہنماوں اور تنظیموں نے کی مذمت، پڑھیں کس نے کیا کہا

وادی کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر کل دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا تھا جس میں 7 عقیدت مندوں کی موت ہوگئی اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔، تصویر، رائٹرز

مولانا مدنی نے کشمیری عوام کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جولائی میں اننت ناگ کے قریب جب ایسے زائرین ایک سڑک حادثے میں متاثر ہوئے تو کشمیری عوام نے کرفیو کی بندشوں کو توڑ کر ہر طرح سے مدد کی تھی ۔

مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

مولانا مدنی نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ اصل خاطیوں کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ تقسیم کرنے والی طاقتیں مذہبی تہواروں کے موقع پر معصوموں پر حملہ کرکے غلط فائدہ اٹھاتی ہیں، اس لیے ایسے موقعوں پر چاق و چوبند سیکورٹی اور جانچ پڑتال کا معقول بندوبست ہونا ناگزیر ہے ۔ مولانا مدنی نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے، نیز جو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی ۔

جماعت اسلامی ہند نے کی شدید مذمت

وہیں، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں امرناتھ یاتریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو تلاش کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے بس میں سفر کر رہے تیرتھ یاتریوں کو بندوق بردار نے ہلاک کر دیا اس سے حیرت زدہ ہیں اور اس مجرمانہ عمل کی کھلے لفظوں میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پر تشدد حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے او ر قرار واقعی سزا دی جائے۔

محمد سلیم انجینئر: فائل فوٹو محمد سلیم انجینئر: فائل فوٹو

انھوں نے اس حملے میں جاں بحق ہوئے یاتریوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت او ر زخمیوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تیرتھ یاتریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے اور جن افسران کی غفلت اور کوتاہی پائی جائے انھیں سخت سزا دی جائے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث  کا اظہار رنج وغم 

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے اخبار کے نام جاری ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی یوں توہرحال میں قابل مذمت ہے لیکن خوشی وغم اور تہواروں میں ہو تویہ مزید شنیع و قبیح ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے برادران وطن عرصہ دراز سے امرناتھ کی پوتر یاترا امن وشانتی کے ماحول میں کرتے آئے ہیں لیکن دہشت گردوں نے گذشتہ شب ان یاتریوں کو بھی نہیں بخشا اور اس دہشت گردانہ حملے میں کئی قیمتی جانیں تلف ہوگئیں اور متعدد لوگ زخمی ہوئے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اور جس پر جتنابھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی: فائل فوٹو

 انہوں نے کہاکہ مٹھی بھر انتہاپسندعناصر ملک کے اندر خوف ودہشت اورفرقہ وارانہ منافرت کا ماحول پیداکرنے کی ناپاک کوششیں کررہے ہیں اور ان کی سازشوں اور حملوں سے عبادت گاہیں ، مذہبی مقامات اورتیرتھ گاہیں بھی محفوظ نہیں رہ گئی ہیں جوکہ نہایت افسوسناک ، تشویشناک اورانتہائی قابل مذمت ہے۔

اویسی نے کی شدید مذمت

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے امرناتھ یاتریوں پر حملہ کے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے۔ انہوں نے پارٹی ہیڈ کوارٹرس دارالسلام میں میڈیا سے با ت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی مذمت کے لئے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس بات کا اختیارنہیں ہے کہ وہ ایسی حرکت کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے برسراقتدارآنے کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ قبل ازیں پہلگام میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اور اب یہ دوسرا بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔

اسدالدین اویسی: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز اسدالدین اویسی: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز

انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ 2008کے حالات پیداکرنے کی کوشش کر رہی ہے۔آج سے ایک سال پہلے سید صلاح الدین کا انٹرویو ٹیلی گراف اخبارمیں شائع ہو اتھا جس میں اس بات کا اس نے اشارہ دیا تھا کہ اس طرح کے حملے ہوں گے۔

امرناتھ یاتریوں پر حملہ انسانیت کے خلاف ایک بہیمانہ کارروائی: سوز

دوسری طرف، کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا تشدد کشمیریت کے سراسر خلاف ہے۔ پروفیسر سوز نے منگل کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہا ’میں اُس خونین واقعے کی پر زور مذمت کرتا ہوں جس میں کل یعنی پیر کے روز 7 امرناتھ یاتریوں کو بے رحم قاتلوں نے گولیوں کا شکار بناکر قتل کیا۔ میں اس واقعہ کو انسانیت کے خلاف ایک بہیمانہ کاروائی مانتا ہوں اور پر زور الفاظ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں ہیں جن کے ذریعے میں اپنے غم و الم کا اظہار کر سکوں‘۔

پروفیسر سیف الدین سوز: فائل فوٹو پروفیسر سیف الدین سوز: فائل فوٹو

 انہوں نے کہا ’میں محسوس کرتا ہوں کہ پورے کشمیر میں لوگوں کا دل رنج و غم سے بھر گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا تشدد کشمیر کی ثقافت جس کو عام طور پر کشمیریت سے موسوم کیا جاتا ہے کے سراسر خلاف ہے اور یہ واقعہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے‘۔

یہ کام مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا: فاروق عبد اللہ

نیشنل کانفرنس کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جنوبی ضلع اننت ناگ کے بوٹینگو میں فائرنگ کے واقعے میں 7یاتریوں کی ہلاکت کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مسلمانوں کا کام نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسے حملوں میں ملوث مسلمان نہیں ہوسکتے۔ فاروق عبداللہ نے اپنی والدہ بیگم اکبر جہاں کی 17ویں برسی کے سلسلے میں سری نگر کے مضافاتی علاقہ درگاہ نسیم باغ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یاتریوں کو معقول سیکورٹی فراہم نہ کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا ’ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق میٹنگیں محض دکھاوے کے لئے منعقد ہوا کرتی تھیں‘۔

فاروق عبداللہ: فائل فوٹو فاروق عبداللہ: فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم کبھی بھی یاترا کے خلاف نہیں رہی ہے بلکہ کشمیریوں نے ہمیشہ یہ خواہش کی کہ زیادہ سے زیادہ یاتری درشن کے لئے وادی آئیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ امرناتھ یاترا لگ بھگ ڈیڑھ سو سال سے جاری ہے، یہاں تک کہ 90کے پُرآشوب دور میں، جب ملی ٹنسی عروج پر تھی، یاترا جاری رہی اور کسی یاتری کا بال بھی بیکا نہ ہوا کیونکہ مذہبی آزادی اور مہان نوازی میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز