ابوالفضل انکلیو میں جماعت اسلامی ہند کے زیر انتظام کل ہند مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کے تحت پروگرام کا انعقاد

Apr 30, 2017 05:15 PM IST | Updated on: Apr 30, 2017 05:15 PM IST

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے تحت کل ہند مسلم پرسنل لاء بیداری مہم ملی ماڈل اسکول ابوالفصل انکلیو میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت کرتے ہوئے نائب امیر جماعت نصرت علی نے کہا کہ ایک طرف تو مسلمانوں کو بیدار کیا گیا ہے کہ شریعت اسلامی کس طرح رحمت ہے برکت ہے انسانوں کے لئے ۔اگر یہ بات برادران وطن اور دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اسلام نے خواتین کو کیا حقوق دئے ہیں تو وہ شریعت کی طرف تیزی سے دوڑیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نکاح ،طلاق ،خلع ،فسخ نکاح ،وراثت کا طریقہ کیا ہے اس کو اسلام نے مکمل طور سے واضح کردیا ہے ۔اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی کوئی گنجائز ہے ہی نہیں۔طلاق اصلاً ایک آپریشن ہے ،جس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب علاج معالجہ کی دیگر تمام تدبیریں ناکام ہو جائیں۔زوجین کے تعلقات میں بگاڑ آجائے اور ان کی درستی کے لئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو ازدواجی زندگی کا فساد دور کرنے کے لئے مجبوراً طلاق کا سہارا لینے کی شریعت نے اجازت دی ہے۔اگر طلاق کا غلط استعمال ہونے لگے تو اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔

ابوالفضل انکلیو میں جماعت اسلامی ہند کے زیر انتظام کل ہند مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کے تحت پروگرام کا انعقاد

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دہلی کے امیر حلقہ عبدالوحید نے کہا کہ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد ہی سے مسلمانوں کے مسلم پرسنل لاء کے خلاف برابر آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور ان قوانین کو ختم کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں ہیں،آج کل اس معاملے میں بہت تیزی آئی ہے اور حکومت کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

اس نے مسلم تنظیموں ،علماء اور دانش وروں ،سماجی کارکنوں اور سنجیدہ افراد میں بجا طور پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔اس پر نوٹس لینا بے حد ضروری ہے۔اس معاملے میں مسلمانوں میں بیداری لائی جائے ،ان کے اندر اسلام کے عائلی قوانین پر عمل کا جذبہ پیدا کیا جائے ،برادران وطن کو بھی سمجھایا جائے کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین قرآنی احکام کا حصہ ہے اور حکومت کو بتایا جائے کہ مسلمان اللہ کے احکام میں کسی بھی صورت شریعت میں مداخلت نہیں کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کے یہاں شادی ،کچھ مذہبی رسم و رواج کے ساتھ ایک معاشرتی تقریب ہے ،لیکن اسلام میں اس کا مقام ’عبادت‘کا ہے ۔

مولانا عبدالسلام اصلاحی نے کہا کہ ان دنوں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت پورے ملک میں مسلم پرسنل لا کے خلاف ایک مہم چھیر دی گئی ہے ۔اور یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ مسلمان عورتوں پر ظلم ہوتا ہے۔جبکہ اسلام کا عائلی قانون عورتوں کے ساتھ عدل و انصاف کا ضامن ہے۔اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان قوانین شریعت سے کما حقہ واقف اور پور طرح ان پر عمل پیرا نہیں ہیں۔

مفتی سہیل احمد قاسمی نے مہم کی اختتامی خطاب میں کہا کہ عام طور پر ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ لڑکیوں کو جہیز کی شکل میں جو کچھ دیتے ہیں وہ وراثت کا بدل ہے، لہٰذا اگر انہیں وراثت میں بھی حصہ دیا جائے تو یہ لڑکوں کی حق تلفی ہو گی۔ کیو ں کہ ایسی صورت میں لڑکیوں کو دو مرتبہ وراثت میں حصہ دینا ہو گا۔ یہ خیال سراسر باطل ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز