الیکشن کے تعلق سے تینوں پرسنل لا بورڈ ہم خیال ، مسلمان اپنے مسائل کو سامنے رکھ کر دیں ووٹ

Jan 18, 2017 07:55 PM IST | Updated on: Jan 18, 2017 07:59 PM IST

لکھنؤ : مذہبی رہنمائوں کی خاموشی اور ملی وسماجی تنظیموں کے مبہم رویوں نے اہل سیاست کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں دلچسپی رکھنے والے دیگر شعبوں کے لوگوں کی طرح ہی مذہبی تنظیموں سے وابستہ علما بھی مسلم طبقہ کی ذہن سازی اور قیادت کریں ، لیکن علما کی سیاسی حکمت عملی اس مرتبہ کچھ اور ہی اشارہ کررہی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ تینوں پرسنل لا بورڈ مسلم ووٹروں کے حوالے سے ہم خیال وہم زبان نظر آرہے ہیں ۔ حالانکہ آل اندیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا تو پہلے سے ہی یہ موقف رہاہےکہ اس کا دائرہ کار صرف شریعت کے مسائل و معاملات تک محدود ہے اور اسے کسی بھی سیاسی پیشرفت سے سروکار نہیں ۔ بورڈ آج بھی اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہتے ہوئے انہی خیالات کی ترجمانی کررہا ہے۔

الیکشن کے تعلق سے تینوں پرسنل لا بورڈ ہم خیال ، مسلمان اپنے مسائل کو سامنے رکھ کر دیں ووٹ

تاہم اس کے برعکس شیعہ پرسنل لا بورڈ اور مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ اپنے اپنے طور پر کبھی سیاسی پارٹی کا نام لے کر اور کبھی نام لیے بغیر سیکولر جماعتوں کی حمایت کی اپیل کرتا رہا ہے ۔ شیعہ پرسنل لا بورڈ کے دستور میں تو یہ تحریر بھی ہے کہ بورڈ اہل تشیع کےسیاسی حقوق کے تحفظ اور بازیابی کے لئے بھی ضرروی پیشرفت کرے گا ، لیکن اس مرتبہ منظر نامہ ماضی سے بالکل الگ ہے اور شیعہ پرسنل لا بورڈ اور خواتین پرسنل لابورڈ نے بھی واضح کردیاہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا اعلان نہیں کیاجائے گا ۔

اب تمام بورڈوں کے سربراہ اور ذمہ دار اراکین ہم خیال وہم زبان ہیں اور یہی پیش رفت اہل سیاست کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی رہنما، مذہبی رہنمائوں سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوششوں میں ہیں اور ملاقاتیں ہو بھی رہی ہیں ، لیکن علما کی جانب سےکسی بھی خصوصی حکمت عملی اور سیاسی لائحہ عمل کی وضاحت نہیں کی جارہی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز