شرعی قوانین میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل برداشت ، بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم : مسلم پرسنل لا بورڈ

Apr 16, 2017 03:53 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 03:56 PM IST

لکھنؤ: لکھنؤ میں دو دن سے جاری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس اتوار کو ختم ہوگیا ۔ اجلاس کے اختتام کے بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں شرعی قوانین میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ، ہندوستان کے زیادہ تر مسلمان مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں چاہتے ہیں ۔ بورڈ نے کہا کہ مسلم جہیز کی بجائے جائیداد میں حصہ دیں، طلاق شدہ خواتین کی مدد کی جائے۔ بورڈ تین طلاق پر پابندی کے خلاف ہے۔ بورڈ نے کہا کہ بابری مسجد معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا۔

بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا ولی رحمانی نے مجلس عاملہ کے اہم اجلاس میں کہا کہ ملک میں پرسنل لاء پر کچھ اس طرح بحث ہونے لگی ہے کہ ان کی اہمیت اور افادیت پر سوال کھڑے کئے جانے لگے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ شریعت کے بارے میں کوئی بھی معلومات نہ رکھنے والے لوگوں نے اس پر انگلیاں اٹھانی شروع کر دی ہیں ، ایسے حالات میں شریعت کی صحیح شبیہ ملک کے پیش کرنے کے لئے بورڈ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

شرعی قوانین میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل برداشت ، بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم : مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا نے کہا کہ ملک میں مسلم پرسنل لاء کو لے کر بورڈ کی طرف سے حال ہی میں چلائی گئی دستخطی مہم کے ذریعہ مسلمانوں نے ایک بار پھر یہ بتا دیا کہ ہندوستان کا آئین اس ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذہبی معاملات پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے اور مسلمان مرد اور خواتین شرعی قوانین میں کوئی بھی تبدیلی یا مداخلت نہیں چاہتے۔ بورڈ نے ایک مرتبہ پھر دو ٹوک انداز میں کہا کہ مذہبی آزادی ہمارا آئینی حق ہے اور شرعی معاملات میں حکومت کی مداخلت بالکل برداشت نہیں کی جائے گی ۔ پرسنل لاء پر عمل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔ اجلاس کی صدارت بورڈ کے چیئرمین مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز