تین طلاق پر بل کا مقصد مسلم معاشرہ کو تباہ کرنا اور جیلوں کو مسلم مردوں سے آباد کرنا ہے : مسلم پرسنل لا بورڈ

Dec 28, 2017 11:20 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 11:20 PM IST

نئی دہلی: مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی سے تین طلاق پر بل پیش کرنے اور جلد بازی میں اسے پاس کرانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کا مقصد مسلم مردوں سے جیل کو بھر دینا ہے تاکہ مسلم معاشرہ انتشار کا شکار ہوجائے۔ مولانانعمانی نے نیوز ایجنسی یو این آئی سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ اتنے حساس مسئلے پر جلد بازی میں بل پیش کیاگیا اور اسی طرح اسے آناً فاناً پاس کرایا گیا۔ اس سے حکومت کے عزم کا پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلم معاشرے کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کی نیت صاف ہوتی تو وہ مسلم علماء اور مسلم ماہر قانون سے صلاح و مشورہ کرتی۔

انہوں نے راجیہ سبھا کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ بل کو پاس نہ ہونے دیں اور سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کریں کیوں کہ نکاح ایک سول کنٹریکٹ ہے اور وہ اپنے میکانزم سے ہی حل ہوگا نہ کہ کریمنل ایکٹ سے۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ نے بل کا ڈرافٹ پڑھا ہے اور پڑھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کس طرح کا بل ڈرافٹ کیا گیا ہے جس میں کریمنل ایکٹ رکھاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس بل کے تحت بیوی کے بجائے محلے کا کوئی شخص دشمنی میں بھی تین طلاق کی شکایت کرتا ہے تو پولیس کو کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

تین طلاق پر بل کا مقصد مسلم معاشرہ کو تباہ کرنا اور جیلوں کو مسلم مردوں سے آباد کرنا ہے : مسلم پرسنل لا بورڈ

انہوں نے اس بل کو مذاق قرار دیتے ہوئے اسے انصاف کی توہین قرار دیا ہے اور کہاکہ وزیر قانون مسلم ممالک کی مثال دے رہے ہیں اور انہوں نے بل پر اٹھنے والے اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر قانون مسلم ممالک کی مثال پیش کرتے نہیں تھک رہے تھے جب کہ مسلم ممالک میں تین طلاق تعزیری جرم نہیں ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ وزیر قانون نے مسلم ممالک کا نام لیکر پارلیمنٹ اور عوام کو دھوکہ دینے کا کام کیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس قانون کا مقصد مسلم معاشرہ کو تباہ کرنا ہے اور جیلوں کو مسلم مردوں سے آباد کرنا ہے اور ویسے بھی جیلوں میں آبادی سے کئی گنا زیادہ مسلمان ہیں اور حکومت اس قانون کے بہانے مزید لوگوں کو جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگربل دونوں ایوانوں میں پاس ہوجاتا ہے تو اس کے دوررس نتائج ہوں گے اور خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افہام تفہیم کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوگا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان نے وزیر قانون کے اس بیان کا کہ وہ مسلم خواتین کو انصاف دلاکربااختیار بنانا چاہتے ہیں پر طنز کرتے ہوئے وزیر قانون، وزیر اعظم ، تین طلاق بل کی حمایت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور اس کی حمایت کرنے والوں سے سوال کیا کہ وہ مسلم خواتین کا حوالہ دے رہے ہیں توکیا افرازلاسلام کی بیوہ مسلم خاتون نہیں ہیں،اخلاق کی بیوہ اور ماں مسلم خاتون نہیں ہیں، نجیب کی ماں مسلم خاتون نہیں ہیں؟ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین کوسمجھنا چاہئے اور وہ سمجھ بھی رہی ہیں کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی وہ مسلم خواتین کی ہمدرد ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز