ریاست کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامہ سے مسلم سیاسی پارٹیوں کے مستقبل پرسوالیہ نشان

Nov 14, 2017 01:26 PM IST | Updated on: Nov 14, 2017 01:26 PM IST

الہ آباد۔ یو پی میں مسلم سیاسی پارٹیاں اپنے وجود کو  لے کر جدوجہد کر رہی ہیں ۔ ریاست کے بدلے ہوئے سیاسی ماحول نے مسلم سیاسی پارٹیوں کو سمٹنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ کچھ مسلم سیاست داں تو عوام کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔  بزرگ  لیڈران کا کہنا ہے کہ مسلم سیاست کے نام پر فائدہ کم ، نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ مسلم سیاست دانوں کا ماننا ہے کہ یو پی میں سیاسی سر گرمیاں جاری رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔

کسی زمانے میں مسلم سیاست کا گڑھ مانے جانے والے یو پی میں مسلم سیاست اس وقت مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے۔ ریاست کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے نے مسلم سیاسی پارٹیوں  کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ ان حالات میں ریاست میں مسلمانوں میں ایک عام مایوسی کا عالم ہے۔ ریاست کے بزرگ مسلم سیاست داں محمد سلیمان نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب ریاست میں کسی طرح کی مسلم سیاسی پارٹی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ریاست کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامہ سے مسلم سیاسی پارٹیوں کے مستقبل پرسوالیہ نشان

یو پی میں بلدیاتی چناؤ ہونے جا رہے ہیں لیکن مسلم سیاسی پارٹیوں کی سر گرمیاں نہ کے برابر ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ یو پی میں مسلمانوں کے سیاسی جلسے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ مسلم سیاسی جلسوں کی اجازت حکومت کی طرف سے نہیں دی جا رہی ہے ۔ مجلس اتحاد المسلمین کافی دنوں سے اسدالدین اویسی کا عوامی جلسہ کرنے کی کوشش میں ہے لیکن مقامی انتظامیہ کی طرف سے جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کا  کہنا ہے کہ یو پی میں اس قدر فرقہ وارانہ  ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ مسلم سیاست کے نام سے ہی لوگ خوف کھانے لگے ہیں ۔

مسلم سیاسی جلسوں کی اجازت حکومت کی طرف سے نہ دئے جانے سے صورت حال اور بھی مایوس کن ہو گئی ہے ۔ کچھ علاقوں میں اجازت کے بغیر پارٹیوں  نے اپنا جلسہ کرنے کی کوشش کی لیکن جلسے کے بعد مسلم لیگ کے لیڈران کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ مسلم لیڈران کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کے اس جانب دارانہ رویے کی وجہ سے یو پی میں مسلم سیاست ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز