فتویٰ حاصل کر سنسنی پیدا کرنے والوں کو مسلم دانشوروں نے بنایا سخت تنقید کا نشانہ

سماجی اور ملّی تنظیموں کے ذمہ داران اور علماء کرام نےمسلمانوں کے مذہبی سماجی اور فقہی معاملوں سے متعلق سوالات پیش کرکے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد سنسنی خیز طریقہ سے میڈیا کی بحث کا موضوع بنانا دار العلوم اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش بتایا ہے۔

Oct 24, 2017 08:08 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 08:08 PM IST

 میرٹھ ۔ عورت کا میک اپ کرنا کتنا جائز ہے؟  مسلمان کا فوٹو کھنچوانا جائز ہے یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر عورتوں کا فوٹو لوڈ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ موبائل فون،  واہٹس ایپ سے، جی میل  فیس بک سےکیے میسیج سے طلاق ہو جائیگا یا نہیں ؟   فلم اور ٹی وی میں کام کرنے والوں کی کمائی جائز ہے یا نہیں۔  ایسے سیکڑوں فتویٰ ہیں، جن کو جاری کرنے پر وہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے لیے مباحثوں کا موضوع بنتے رہے ہیں۔  مسلم سماجی اور ملّی تنظیموں کے ذمہ داران اور علماء کرام نےمسلمانوں کے مذہبی سماجی اور فقہی معاملوں سے متعلق سوالات پیش کرکے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد سنسنی خیز طریقہ سے میڈیا کی بحث کا موضوع بنانا دار العلوم اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش بتایا  ہے اور انہوں نے اس طرح کی سازش انجام دینے والے افراد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔

مسلم دانشوراورعلماء حضرات کے مطابق دارالعلوم کے دارالافتاء کے ذریعہ شرعی معلومات کے حوالے سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے جواب ہر روز دیے جاتے ہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ وقت سے کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں میڈیا سے وابستہ کچھ افراد نے خبر کے ذریعہ سنسنی پھیلانے کے مقصد سے فتوے حاصل کیے ہیں ۔ فتووں کو بحث کا موضوع بنا کر تماشا کرنے والوں کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد سے محتاط رہنے کی علماء حضرات نے دیوبند اور دیگر اداروں سے اپیل کی ہے۔

فتویٰ حاصل کر سنسنی پیدا کرنے والوں کو مسلم دانشوروں نے بنایا سخت تنقید کا نشانہ

ری کمنڈیڈ اسٹوریز