ان 115 مسلم اکثریتی سیٹوں پر بھی جم کر پڑے بی جے پی کو ووٹ ، مظرنگر اور دیوبند پر بھی کا قبضہ

یوپی اسمبلی کا یہ انتخابات صرف بی جے پی کی فتح کے اعداد و شمار سے ہی چونکانے والا نہیں ہے۔ بلکہ یوپی کی 115 مسلم اکثریت والے اسمبلی بھی ہر کسی کو چونکا رہی ہیں۔ ی

Mar 11, 2017 09:46 PM IST | Updated on: Mar 11, 2017 09:46 PM IST

لکھنو : یوپی اسمبلی کا یہ انتخابات صرف بی جے پی کی فتح کے اعداد و شمار سے ہی چونکانے والا نہیں ہے۔ بلکہ یوپی کی 115 مسلم اکثریت والے اسمبلی بھی ہر کسی کو چونکا رہی ہیں۔ یہاں ایس پی کانگریس اتحاد اور بی ایس پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بی جے پی نے کافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، جبکہ اتحاد اور بی ایس پی کو یہاں زبردست جھٹکا لگا ہے۔فسادات متاثرہ مظفرنگر سے کی سبھی سیٹوں سے لے کر دیوبند ، بریلی ، بجنور اور مرادآباد میں بی جے پی کو جم کر ووٹ ملے ہیں۔

مغربی اور مشرقی اتر پردیش میں 115 سیٹیں ایسی ہیں ، جہاں مسلم ووٹر بڑی تعداد میںہیں ۔ یہ 115 وہ سیٹیں ہیں جو ہمیشہ سے ایس پی اور بی ایس پی کو ووٹ ملتی رہی ہیں ۔ سال 2012 کے اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو سب سے زیادہ 65 سیٹ ایس پی کو ملی تھیں۔ لیکن اس انتخاب میں صرف 22 سیٹ ملی ہیں۔ ایس پی کو 43 سیٹ کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ 2012 میں بی ایس پی کو 16 سیٹ ملی تھیں اور اسے اس بار آٹھ سیٹ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کانگریس سات سیٹ پر رہی تھی اور اسے پانچ سیٹ کا نقصان ہوا ہے۔

ان 115 مسلم اکثریتی سیٹوں پر بھی جم کر پڑے بی جے پی کو ووٹ ، مظرنگر اور دیوبند پر بھی کا قبضہ

اب بات بی جے پی کی کریں تو 2012 میں 22 سیٹیں ملی تھیں ،جو اس بار بڑھ کر 83 ہو گئی ہیں۔ بی جے پی کے لیے یہ خود بھی چونکانے والی سیٹیں ملی ہیں۔ دوسری طرف 115 میں سے 83 سیٹ پر بی جے پی کی جیت کو کچھ لوگ بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے الزامات سے جوڑ کر بھی دیکھ رہے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز