کیا اترپردیش میں نئی کروٹ لے رہا ہے مسلم ووٹر، مودی ہی نہیں ایس پی ، بی ایس کیلئے بھی اویسی ہیں خطرہ

Dec 04, 2017 09:53 PM IST | Updated on: Dec 04, 2017 09:56 PM IST

نئی دہلی : کیا اترپردیش میں مسلم ووٹراس نئی کروٹ لے رہا ہے ۔ یہ سوال بلدیاتی انتخابات کے بعد ایس پی اور بی ایس پی کے سامنے کھڑا ہوگیا ہے، کیونکہ انتخابات کے نتائج بھی اس سوال پر مہر لگارہے ہیں۔ اپنے پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ملی کامیابی نے ریاست میں قومی پارٹیوں میں کھلبلی مچادی ہے۔

اترپردیش میں اے آئی ایم آئی ایم نے اپنا پہلا بلدیاتی انتخابات لڑا ہے ، لیکن نتائج خود پارٹی کیلئے بھی چونکانے والے تھے ۔ پارٹی نے اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار 12 نگر نگم پارشد کی سیٹیں جیتی ہیں ۔ سب سے زیادہ پارشد کی 10 سیٹیں فیروز آباد میں ملی ہیں ۔

کیا اترپردیش میں نئی کروٹ لے رہا ہے مسلم ووٹر، مودی ہی نہیں ایس پی ، بی ایس کیلئے بھی اویسی ہیں خطرہ

اپنے پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ملی کامیابی نے ریاست میں قومی پارٹیوں میں کھلبلی مچادی ہے۔

اتنا ہی نہیں فیروز آباد میں ہی میئر عہدہ کی ایم آئی ایم کی امیدوار 55 ہزار سے زائد ووٹ لے کر دوسرے مقام پر رہی ۔ انہوں نے یہاں ایس پی ، بی ایس پی اور کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا ۔پارٹی نے 13 نگر پالیکا اور نگر پنچایتوں کی سیٹیں بھی جیتی ہیں ، جس سے یہ واضح پیغام جارہا ہے کہ پارٹی کو پسند کرنے والے صرف شہری ہی نہیں دیہی علاقوں میں بھی ہیں ۔ پارٹی کا ایک امیدوار پالیکا صدر کیلئے بھی چنا گیا ہے۔ خیال رہے کہ فیروز آباد سے سماجوادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اکشے یادو ہیں ، لیکن پارٹی یہاں تیسرے مقام پر رہی ۔

ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پی آر او اور مسلم امور کے ماہر ڈاکٹر راحت ابرار کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر مسلم ووٹر کانگریس پر اپنا اعتماد کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ اس کی مثال وہ مسلم اکثریتی اضلاع بھی ہیں ، جہاں میئر عہدہ کیلئے ووٹ حاصل کرنے میں کانگریس نے ایس پی کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اے ایم یو کے پروفیسر محب الرحمان کا کہنا ہے کہ 2017 کے بعد خاص طور سے ایس پی اور بی ایس پی نے مسلم ووٹروں کا اعتماد کھویا ہے ۔ بی جے پی کے خلاف مسلمانوں کو ووٹوں کا بکھراو سمجھ میں آنے لگا ہے ، اس لئے اگر بلدیاتی انتخابات کی بات کریں تو مسلم ووٹروں نے پہلے مسلم پارٹی ، پھر مسلم امیدوار اور اس کے بعد بی جے پی کو ہرانے والی پارتی پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ۔ اس طرح کی مسلم ووٹنگ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے ہی الیکشن میں ایم آئی ایم کو اچھی کامیابی ملی ہے۔

ادھر کانگریسی لیڈر میم افضل کا کہنا ہے کہ کانگریس ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی خیر خواہ رہی ہے ۔ مسلمان اب ایس پی اور بی ایس پی کا کھیل سمجھ چکے ہیں ، اس لئے مسلم ووٹروں نے کانگریس میں دوبارہ انٹری کرلی ہے ۔ اس الیکشن میں ہم نے لوگوں کو بھروسہ حاصل کرلیا ہے۔

جبکہ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم پٹیل کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کیا مسلم ووٹرس ایس پی سے دور ہوئے ہیں ۔ جلد ہی پارٹی ایک میٹنگ بلانے جارہی ہے ۔ صرف میٹنگ میں ہی نہیں مسلمانوں کے درمیان جاکر بھی ان کی بات سنی جائے گی۔

بی ایس پی کے سدھیندر بھدوریا کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے اس مرتبہ ایک پالیسی کے تحت ووٹنگ کی ہے ۔ بی جے پی کو ہرانے کیلئے سب سے مضبوط امیدوار کو ووٹ دیا ہے ۔ بی ایس پی کو بھی مسلمانوں کا اچھا خاصا ووٹ ملا ہے ۔ بی جے پی سے ناراض سبھی طبقہ کے ووٹروں نے بی ایس پی کو ووٹ دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز