دیوبند سے گرفتار ایک مسلم نوجوان دہلی کی خصوصی عدالت سے مقدمہ کے بعد باعزت بری

Feb 07, 2017 05:46 PM IST | Updated on: Feb 07, 2017 05:46 PM IST

ممبئی۔  ممنوعہ اسلامی تنظیم جیش محمد کے لئے کام کرنے کے الزامات کے تحت گذشتہ سال 6 فروری کو دیوبند سے گرفتار ایک مسلم نوجوان کو آج بالاخر دہلی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ سے باعزت بری یعنی کہ ڈسچارج کردیا ۔ ملزم کی پیروی جمعیۃ علما ہند (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے کی جنہوں نے اس سے قبل بھی دس  مسلم نوجوانوں کواس وقت رہائی دلائی تھی جب ان پر پولس مقدمہ قائم کرنے جارہی تھی ۔

یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں دیتے ہوئے اخبار نویسوں کو بتایا کہ گذشتہ سال کے فروری ماہ میں دہلی اسپیشل سیل نے دیوبند اور دہلی کے مختلف مقامات سے ۱۳؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جیش محمد کے رکن ہیں اور بم سازی کر رہے تھے لیکن جمعیۃ علماء کی بروقت کارروائی سے دس مسلم نوجوانوں جس میں مولانا مظاہر، محسن احمد ، ذیشان اور محمد عمران و دیگر شامل ہیں کو پوچھ تاچھ کے بعد پولس اسٹیشن سے رہا کرا لیا گیا تھا جس کے بعد دہلی پولس نے تین مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا لیکن آج دہلی پولس کو اس وقت شدید ہزیمت اٹھانی پڑی جب عدالت نے ایک اور ملزم شاکر انصاری جسے دیوبند سے گرفتار کیا گیا تھا کو عدم ثبوتوں کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کردیا ۔

دیوبند سے گرفتار ایک مسلم نوجوان دہلی کی خصوصی عدالت سے مقدمہ کے بعد باعزت بری

ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے بتایا کہ ملزم شاکرا نصاری جس کا تعلق دیوبند سے ہے کو تحقیقاتی دستوں نے ان الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا کہ وہ دیگر ملزمین کے ساتھ پاکستان جا کر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ لینے کا منصوبہ بنا رہا تھا نیز وہ دیگر ملزمین کے ساتھ مسلسل رابطہ میں تھا نیز اس کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانونی کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے بتایا کہ ایک جانب جہاں آج خصوصی عدالت کے جج رتیش سنگھ نے ملزم شاکر انصاری کو اس مقدمہ سے ڈسچارج کردیا وہیں دیگر ملزمین کے خلاف چارج شیٹ فریم کردیئے جن کے نام ساجد احمد اور سمیر احمد ہیں ۔ ملزم شاکر انصاری کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ پولس نے شک کی بنیاد پر بے قصوروں کو گرفتار کیا ہے اور وہ جیش محمد جیسی کسی بھی تنظیم سے کبھی وابستہ نہیں تھے اورانہیں امید ہیکہ اس مقدمہ سے جلد ہی دیگر دو مسلم نوجوانوں کی رہائی بھی عمل میں آ ئے گی نیز اس تعلق سے ایڈوکیٹ ایم ایس خان معاملے پر پوری طرح سے  نظر رکھے ہوئے ہیں ۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ تحقیقاتی دستوں کو کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے سے قبل مکمل تحقیقات کرلینا چاہئے لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہیکہ پہلے شک کی بنیاد پر گرفتاری عمل میں آتی ہے پھر اس کے بعد تحقیقات شروع کی جاتی ہے نیز تحقیقات مکمل ہونے تک ملزمین کو جیل کی اذیتیں اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس سے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی زندگی تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز