اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کی تجویز پر مسلم دانشوروں کا ملا جلا رد عمل

May 16, 2017 06:44 PM IST | Updated on: May 16, 2017 06:44 PM IST

الہ آباد ۔ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی معاملےکوعدالت سےباہربات چیت کےذریعےحل کئے جانےکی اکھاڑا پریشد کی تجویز پرمسلمانوں نےملا جلا ردعمل ظاہرکیا ہے ۔ دودن پہلے اکھاڑا پریشد کے سربراہ مہنت نرندرگری نے مسلمانوں سےاپیل کی ہے کہ وہ بابری مسجد کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔ اکھاڑا پریشد نے اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے براہ راست گفتگو کرنےکی بھی بات کہی تھی ۔ گرچہ اکھاڑا پریشد کی تجویز پر مسلم دانشوروں کی رائے منقسم ہے تاہم مسلمانوں میں بیشتر افراد کا خیال ہے کہ بابری مسجد کے معاملے میں مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے ۔ مسلم دانشوروں  کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں کی جا نی چاہئے ۔

 بابری مسجد مقدمےکے اہم فریق اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے سر براہ مہنت نرندرگری نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ بابری مسجد کا قضیہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ گذشتہ 13 مئی کو الہ آباد میں اکھاڑا پریشد نے بابری مسجد مقدمے کے کلیدی فریق ہاشم انصاری کے پوتے اخلاق انصاری سے ملاقات کی تھی ۔ اکھاڑا پریشد اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی کا مسئلہ عدالت سےباہربات چیت کےذریعےحل کرلیا جائے ۔ اکھاڑا پریشد کی اس تجویزپرمسلم دانشوروں نے اپنے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔

اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کی تجویز پر مسلم دانشوروں کا ملا جلا رد عمل

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز