جموں و کشمیر : مذہبی ہم آہنگی کی روشن مثال، پنڈت کی آخری رسومات مسلمانوں نے دی انجام

Nov 20, 2017 05:26 PM IST | Updated on: Nov 20, 2017 05:26 PM IST

سری نگر:کشمیری مسلمانوں نے ایک بار پھر مذہبی ہم آہنگی، اخوت اور انسانیت نوازی کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے مقامی کشمیری پنڈت موتی لال رازدان کی آخری رسومات سرانجام دیں۔ وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے ووسن نامی گاؤں کا رہائشی موتی لال اتوار کے روز مختصر علالت کے بعد انتقال کرگیا، جس کے بعداُن کے پڑوسی کشمیری مسلمانوں کی ایک بھاری جمعیت نے نہ صرف آنجہانی موتی لال کی آخری رسومات سرانجام دیں بلکہ اُن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی اور دوسری چیزیں مہیا کیں۔

موتی لال کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انیس سو نوے کی دہائی میں جب بیشتر کشمیری پنڈت وادی چھوڑ کر چلے گئے تو انہوں نے یہاں ہی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ اتوار کو جب موتی لال کے سرگواس ہونے کی اطلاع ووسن میں پھیل گئی توپڑوسی مسلمان بھائیوں کی ایک بڑی تعداد اُن کے گھر پر امڈ آئی جنہوں نے مذہبی ہم آہنگی، انسانیت نوازی اور کشمیریت کا ثبوت پیش کرکے اُن کی آخری رسومات سرانجام دیں ۔ووسن کے رہایشیوں نے کہا کہ موتی لال کے سرگواس ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کنبے کے ایک فرد سے محروم ہوچکے ہیں۔

جموں و کشمیر : مذہبی ہم آہنگی کی روشن مثال، پنڈت کی آخری رسومات مسلمانوں نے دی انجام

مسلمان آخری رسومات ادا کرتے ہوئے ۔ تصویر : برائٹر کشمیر

انہوں نے کہا ’ہم ہر دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک رہتے تھے اور اکثر اوقات کوئی کام شروع کرنے سے قبل موتی لال جی کا مشورہ حاصل کرتے تھے‘۔ تاہم یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ جب کشمیری مسلمانوں نے کسی پنڈت یا ہندو کی آخری رسومات انجام دی ہو۔ وادی میں مذہبی ہم آہنگی اور آپسی رواداری کی یہ مثالیں اُس وقت قائم ہورہی ہیں جب نوے کی دہائی میں کشمیر چھوڑ کر چلے جانے والے کشمیری ہندو پنڈتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی چند تنظیمیں کشمیری مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر منفی پروپیگنڈا کررہی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز