مظفر نگر میں شرمسار کرنے والا واقعہ ، خاتون وارڈن نے 70 طالبات کو کیا ننگا

Mar 31, 2017 04:53 PM IST | Updated on: Mar 31, 2017 04:53 PM IST

مظفر نگر : اتر پردیش کے مظفرنگر ضلع سے شرمسار کرنے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہاں کستوربا گاندھی رہائشی اسکول میں ہوسٹل وارڈن نے طالبات کو ننگا کر گھنٹوں کھڑا رکھا۔ معاملہ سامنے آنے پر ضلع انتظامیہ نے وارڈن کو معطل کر دیا۔جمعرات کو ہاسٹل وارڈن کی اس گھنوني کرتوت کے خلاف متاثرہ طالبات نے جم کر نعرے بازی کی اور ریاستی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعہ کے بعد کئی طالبات کے والدین اپنی بچیوں کے ساتھ ہوئی اس حرکت کے بعد انہیں گھر لے گئے۔

یہ معاملہ مظفر نگر کے کھتولی تھانہ علاقہ کے تگري گاؤں میں واقع کستوربا گاندھی رہائشی اسکول کا ہے ، جہاں اسکول کی خاتون وارڈن سریكھا تومر نے طالبات کو کچھ اس طرح سے ہراساں کیا کہ کوئی بھی شرمندہ ہو جائے۔ وارڈن نے 70 طالبات کو ایک ساتھ کلاس میں لے جاکر ننگا حالت میں کھڑا کردیا ۔ وارڈن سریكھا نے کئی گھنٹوں تک طالبات کو پوری طرح عریاں کرکے رکھا۔

مظفر نگر میں شرمسار کرنے والا واقعہ ، خاتون وارڈن نے 70 طالبات کو کیا ننگا

وارڈن کی اس گھنونی کرتوت کے پیچھے وجہ صرف اتنی تھی کہ اسکول کے بیت الخلا میں خون کے دھبے ملے تھے، جسے دیکھ کر وارڈن چراغ پا ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے سبھی 70 طالبات کو کلاس روم میں لے جاکر پوری طرح ننگا کر دیا اور ایک ایک کر کے طالبات کے حائضہ ہونے کی جانچ کرنے لگیں۔ اس دوران طالبات روتی رہیں، لیکن وارڈن نہ تو شرمندہ ہوئی اور نہ طالبات کی حالات پر اس کو ترس آیا۔

وارڈن کی اس حرکت کے بعد طالبات نے اسکول میں جم کر نعرے بازی اور احتجاج شروع کر دیا۔ واقعہ کی معلومات ملنے پر بیسک تعلیم افسر اسکول پہنچے، لیکن جانچ کے نام پر اس نے بھی کچھ نہیں کیا۔تاہم جب معاملہ میڈیا میں آیا ، تو بیسک تعلیم افسر چندرکیش یادو نے آنا فانا میں سات ارکان کی ٹیم بنا کر اس پورے معاملہ کی جانچ کر کے وارڈن سریكھا پر الزامات ثابت ہونے تک فوری طور سے معطل کر دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز