میانمار کے پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں میں امید جگا رہے دو پناہ گزیں بھائی-بہن

Jun 20, 2017 03:20 PM IST | Updated on: Jun 20, 2017 03:20 PM IST

نئی دہلی۔ میانمار (برما) میں بودھوں کے تشدد سے متاثر روہنگیا مسلمانوں نے تقریبا 6 سال پہلے ہندوستان میں پناہ لی۔ سرکاری مدد کے بعد بھی سب کو ڈر تھا کہ ان کی زندگی یہاں کیسے گزرے گی۔ لیکن آج ان ہی ریفیوجی روہنگیا مسلموں کے درمیان میں ہی نکلے دو بچے ایسے ہیں جو نہ صرف اس کمیونٹی بلکہ دیگر کمیونٹی کے بچوں کے لئے بھی باعث ترغیب ہیں۔

دو ہزار بارہ میں میانمار سے پناہ گزینوں کے طور پر دہلی آئے علی جوہر اور ان کی بہن انتہائی مشکل حالات میں نہ صرف خود پڑھ رہے ہیں بلکہ دلی میں رہ رہے پناہ گزینوں میں تعلیم اور بیداری کی امید جگا رہے ہیں۔

پناہ گزیں تسمیدا نے پاس کیا ہائی اسکول، بننا چاہتی ہیں ڈاکٹر

چھ بھائیوں کی بہن تسمیدا کی عمر 15 سال ہے۔ بودھوں کے خوف سے اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں پناہ لے کر جھگی میں رہ رہیں تسمیدا کہتی ہیں کہ سب کچھ اچھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں لیکن اگر انہیں ان کا حق مل جائے تو وہ برما میں جا کر رہنا چاہیں گی اور روہنگیا مسلم آبادی کو نئی سمت دیں گی۔

ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہیں تسمیدا نے اسی سال ہائی اسکول کا امتحان اوپن اسکول سے پاس کیا ہے۔ وہ آگے سائنس لے کر پڑھنا چاہتی ہیں۔ تسمیدا کہتی ہیں کہ جب برما سے جان بچا کر وہ لوگ ہندوستان آئے تو انہیں بھی امید نہیں تھی کہ وہ پڑھ پائیں گی۔ لیکن آج وہ پڑھائی کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں بچوں اور عورتوں کے لئے ڈاکٹر بننا ہے۔ تسمیدا کے الفاظ میں، "ہمارے یہاں خواتین کو کوئی صحت کی دشواری ہوتی ہے تو وہ کھل کر مسئلہ تک نہیں بتا پاتی ہیں۔ خواتین کو صحت کے بارے میں معلومات بھی نہیں ہوتی۔ "

rohingaya muslims1

"میں ڈاکٹر بنوں گی، ہمارے ماں باپ تو نہیں پڑھ پائے، لیکن تمام بچوں کا مستقبل بہتر بنے، اس لئے میں دوسرے پناہ گزین بچوں کو پڑھاتی بھی ہوں۔"

علی جوہر چلا رہے روہنگیا لٹریسی پروگرام

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پالیٹیکل سائنس میں پڑھائی کر رہے علی جوہر روہنگیا لٹریسی پروگرام چلا کر اس کمیونٹی کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب اس لئے کر رہے ہیں تاکہ وہ سب انسانی زندگی جی سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ برما سے نکالے جا چکے ہیں۔ وہاں کے حالات کے مدنظر وہاں واپس لوٹنا مشکل ہے۔ جبکہ ہندوستان میں وہ پناہ گزیں ہیں لیکن یہاں کی شہرییت ملنا ناممکن ہے۔ ایسی صورت میں ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ ان ہی حالات میں بہتر کیا جائے۔ علی کے الفاظ میں، "جون 2012 میں موت کو پیچھے چھوڑ کر جب میں دہلی میں آیا تو میٹرک پاس تھا۔ کئی جگہ نوکری تلاش کی، لیکن عمر کم تھی۔ اس کے بعد بہت سے خاندان ہریانہ گئے۔ لیکن وہاں بھی کچھ راحت نہیں ملی تو ہم واپس دہلی آگئے۔

rohingaya muslims2

دو ہزار چودہ تک یہاں ہمارے تعلیم-روزگار کے لئے کوئی انتظام نہیں تھا۔ بس مدن پور كھادر کے پاس جھگی کے لئے جگہ دے دی گئی۔ اس سے پہلے ہم دہلی کے وزیر تعلیم کو خط لکھ رہے تھے۔ تعلیم کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وزیر تعلیم نے ایک دن ہمیں بلایا اور کہا کہ 14 سے کم عمر کے بچوں کو تعلیم ملنی چاہئے یہ تو آئینی حق ہے۔ اس کے بعد بچوں کے داخلے اسکولوں میں ہوئے۔ حالانکہ اقتصادی اور دستاویزات کا مسئلہ آیا۔ لیکن آج 67 بچے پڑھ رہے ہیں۔ پھر ہم نے 2016 میں روہنگیا لٹریسی پروگرام شروع کیا۔ اس میں ہم ویمن امپاورمنٹ، ایڈلٹ ایجوکیشن، ہیلتھ کے لئے بھی کام کر رہے ہیں۔

دو ہزار بارہ میں برما سے بھارت آئے تھے پناہ گزین

جون 2012 میں برما میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ بودھوں نے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار (برما) چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ برما میں قتل عام ہونے لگا۔ انتہائی کم آبادی والے روہنگیا مسلم برما چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لینے لگے۔ اسی ضمن میں سینکڑوں خاندان ہندوستان بھی آ گئے اور یہاں پناہ لی۔ اس کے بعد سے مسلسل برما کے پناہ گزین بھارت آ رہے ہیں۔ 2015 میں بھی بہت سے خاندان آئے۔

rohingaya muslims3

قریب نصف درجن ریاستوں میں ہیں پناہ گزین

دہلی میں تقریباً 800 پناہ گزینوں سمیت جموں، حیدرآباد، پنجاب، یوپی، مغربی بنگال، راجستھان میں ورما سے آئے پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ ہائی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک قریب 15 ہزار روہنگیا مسلم پناہ گزین بھارت میں رہ رہے ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں پر ہوئے ایسے ایسے ظلم

پناہ گزین انورا بیگم بتاتی ہیں کہ برما میں بودھوں نے روہنگیا مسلمانوں پر بہت زیادتی کی۔ یہاں تک کہ اب بھی روہنگیا کو برما میں رہنا مشکل ہو رہا ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔ مسلم بچوں کو اسکول نہیں جانے دیا جاتا ہے۔ حاملہ خواتین کا ہسپتالوں میں علاج نہیں ہوتا۔ زچگی کے دوران انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں جہاں بودھوں کے لئے کوئی فیس نہیں ہے وہاں ان سے فیس لی جاتی ہے۔ پولیس اہلکار مسلمانوں کو کبھی بھی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔

مسلم وہاں کچھ نہیں بول سکتا۔ کوئی حق نہیں ہے۔ بچے اگر گھروں میں پڑھتے ہیں تو حکومت گھروں میں بھی پابندی لگا دیتی ہے۔ وہاں رہنا بہت مشکل ہے۔

انسان کی طرح جینا چاہتے ہیں ہم

برما سے آکر مدن پور كھادر کی جھگیوں میں رہ رہے محمد سليم اللہ کہتے ہیں کہ وہ انسانی زندگی جینا چاہتے ہیں۔ جانوروں کی طرح انہیں برما سے نکال دیا گیا۔ ظلم کئے۔ یہاں بھی وہ جھگیوں میں رہ رہے ہیں۔ نہ تعلیم ہے نہ روزگار نہ اپنا پن۔ بس زندگی کاٹ رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں۔

تم بنگلہ دیشی ہو، بنگلہ دیش جاو

شاکر بتاتے ہیں کہ وہاں پر بودھ روہنگیا مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم بنگلہ دیش کے ہو۔ تمہارے آبا واجداد 600 سال پہلے بنگلہ دیش سے غلام بنا کر یہاں (برما) لائے گئے تھے۔ آپ بھی غلام ہو۔ بنگہ دیش جاو، بھارت جاؤ۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے وہاں۔ اس کے ساتھ ہی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو جو شناختی کارڈ دیئے گئے ہیں وہ عارضی ہیں۔ ان میں لکھا ہے کہ وہ یہاں مہمان ہیں، یہاں کے شہری نہیں ہیں۔ روہنگیا کو وہاں کوئی سرکاری نوکری نہیں دیتا۔

rohingaya muslims4

ایسے آئے بھارت

روہنگیا مسلمانوں نے بتایا کہ جب مار کاٹ زیادہ ہونے لگی تو وہ برما سے سرحد تک آئے۔ وہاں سے ایک ندی میں کشتی چلا کر بنگلہ دیش پہنچے۔ پھر بنگلہ دیش سے بس لے کر بھارت کے بارڈر آئے اور یہاں سے ٹرین لے کر دہلی پہنچے۔ اس دوران کئی بار چیکنگ ہوئی۔

برما میں ہو امن تو جائیں گے ملک

روہنگیا مسلم پناہ گزین کہتے ہیں کہ انہیں بھارت میں بھی نہیں رہنا۔ وہ اپنے ملک برما میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب امن ہو جائے گا، انہیں ووٹ کا حق ملے گا۔ دیگر حقوق ملیں گے تب۔

پریہ گوتم کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز