صاحب طرز افسانہ نگارنیر مسعود نہیں رہے ، کربلا منشی فضل حسین میں تدفین ، ادبی دنیا میں سوگ کی لہر

معروف ادیب محقق دانشور اور اور اردو زبان وادب کے اہم ستون پروفیسر نیر مسعود نے آج دوپہر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔

Jul 24, 2017 11:39 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 11:42 PM IST

نیوز الہ آباد / لکھنؤ :معروف ادیب محقق دانشور اور اور اردو زبان وادب کے اہم ستون پروفیسر نیر مسعود نے آج دوپہر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ ساہتیہ اکادمی اور سرسوتی سمان حاصل کرچکے ماہر انیسیات پروفیسر نیر مسعود کے انتقال کے ساتھ ہی لکھنو سے ادب رخصت ہوگیا۔ اپنی 83 سالہ زندگی میں پروفیسر نیر مسعود نے جو ادبی خدمات انجام دیں ، وہ ادب کی تاریخ کا کبھی نہ ختم ہونے والا باب ہے۔انہوں نے مختلف موضوعات پر تیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔پانچ افسانوی مجموعے تخلیق کئے تین سو سے زیادہ تحقیقی مضامین قلم بند کئے اور سو سے زیادہ ایسے اہم مضامین ترجمہ کئے جو دوسری زبانوں کے ادب میں بھی شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دبستان لکھنو کے اس اہم قلم کار نے انیس سوانح کے حوالے سے جو اہم خدمات انجام دی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔پروفیسر نیر مسعود پروفیسر مسعود الحسن رضوی ادیب کے لائق فرزند تھے ، جنہوں نے اپنی ادبی میراث کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے آگے بھی بڑھایا۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔اہل علم ودانش مانتے ہیں کہ پروفیسر نیر مسعود کا ا نتقال اردو زبان وادب کاایسا نقصان ہے ، جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

وہیں اردو کے مشہور افسانہ اور محقق نیرمسعود کی وفات پر الہ آباد میں بھی ادیبوں نے اپنے گہرے رنج وغم کااظہار کیا ہے ۔ الہ آباد میں نیرمسعود کی وفات کی خبر ملتے ہی ادبی حلقوں میں سوگ کی کا ماحول ہو گیا۔مشہور افسانہ نگار اسرار گاندھی اور ترقی پسند ادیب پروفیسر علی احمد فاروقی نے نیر مسعود کو اردو کے افسانوی ادب کا ایک عظیم مصنف قرار دیا ہے ۔ادیبوں کا کہنا تھا کہ نیر مسعود نے اردو ادب میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی۔

صاحب طرز افسانہ نگارنیر مسعود نہیں رہے ، کربلا منشی فضل حسین میں تدفین ، ادبی دنیا میں سوگ کی لہر

پروفیسر نیر مسعود کی رہائش گاہ پر لوگوں کا آمد کا تانتا بندھا ہوا ہے

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز