آنند شرما کا پی ایم مودی سے سوال، دنیا نے ہندوستان کی طاقت تسلیم کی ، تو پھر پاکستان کیوں نہیں مان رہا

Aug 03, 2017 09:37 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 10:07 PM IST

نئی دہلی: ڈوکلام معاملے پر چین کے جارحانہ رخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ حکومت قومی مفاد سے سمجھوتہ کئے بغیر بات چیت کے ذریعے اس تعطل کو دور کرے اور وزیر اعظم مودی کو یہ بتانا چاہیے کہ ان کی چین کے صدر سے کیا بات چیت ہوئی ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر آنند شرما نے 'ہندستان کی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ تال میل موضوع پر ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ وزیر اعظم پوری دنیا کے ممالک سے بات چیت کرنے کیلئے گھوم رہے ہیں لیکن پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک ہم پڑوس کو نہیں سنبھالیں گے تب تک ہندستان علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر مثبت کردار ادا نہیں کر سکتا۔

مسٹر شرما نے کہا کہ چین پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک میں مسلسل اپنی دوستی بڑھا رہا ہے۔گزشتہ چند دنوں کی سرگرمیوں سے چین کے ساتھ ہندستان کی مختلف حکومتوں کے ذریعہ بنایا گیا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے اور تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈوکلام کے معاملے پر چین کا رخ غیرمعمولی طور پر جارحانہ ہے اور اس کا کل کا بیان تشویشناک ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ دو بار اس معاملے پر بول چکے ہیں، پر ہندوستان کا جواب کیا ہے۔ وزیر اعظم نے چین کے صدر سے ملاقات کی ہے، لیکن وہ خاموش ہیں انہیں بتانا چاہئے کہ کیا انہیں کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ہندستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی جرمنی کے ہیمبرگ میں مختلف مسائل پر بامعنی بات چیت ہوئی لیکن چین نے اس سے انکار کیا ہے۔ وزیر اعظم اس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

آنند شرما کا پی ایم مودی سے سوال، دنیا نے ہندوستان کی طاقت تسلیم کی ، تو پھر پاکستان کیوں نہیں مان رہا

file photo

مسٹر شرما نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر بھی چینی صدر سے ملے ہیں لیکن وہاں سے بھی کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا بات چیت کی کھڑکی ابھی کھلی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ بات چیت کے دروازے بند ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے ہر معاملے پر اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ سفارتی بات چیت کو موقع دیا جانا چاہئے اور دنیا میں یہ پیغام جانا چاہئے کہ ہندستان کشیدگی کم کرکے صورتحال کو معمول پرلانا چاہتا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے وقت کسی بھی طرح سے قومی مفاد سے سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

مسٹر شرما نے کہا کہ چین ۔ پاکستان اقتصادی کوریڈور تشویش کا موضوع ہے لیکن اس موضوع پر حکومت کی کیا پالیسی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے تمام اسٹریٹجک شراکت دار اس معاملے پر ہندستان کی تشویش کو سمجھتے ہیں لیکن کیا اس حقیقت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ چین نے اس کی معلومات دینے کے لئے جاپان، روس اور کوریا جیسے تمام ممالک کو بلایا اور یہ ملک اپنے مفادات کی خاطر وہاں گئے بھی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندستان اس معاملے میں اپنی بات مضبوطی کے ساتھ رکھے۔

کانگریس رکن نے پاکستان کے تئیں پالیسی کے لئے بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے پوچھا کہ اس بارے میں اس کا کیا روڈ میپ ہے، کیا سمت ہے۔ کبھی وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کی بات کہتی ہے تو کبھی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی محنت سے متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کی خارجہ پالیسی سے دنیا میں ہندستان کی پاکستان سے الگ پہچان بنی تھی لیکن اب وہ متاثر ہو رہی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے چین اور ترکی جیسے ملک بھی جموں کشمیر کے بارے میں بیان دے رہے ہیں جو تشویش کا موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود دعوی کیا کہ ہم نے پاکستان کو الگ تھلگ کر دیا ہے پر کیا یہ دعوی درست ہے۔ چین اور پاکستان کا گہر ا فوجی اور اقتصادی گٹھ جوڑ ہے۔ ترکی کے بھی پاکستان کی حمایت میں بیان آ رہے ہیں۔ پاکستان کی فوج چین اور روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق کر رہی ہے۔پاکستان اور روس دفاع کے شعبہ میں معاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس طرح کے دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔ وزیر اعظم امریکہ میں جاکر کہتے ہیں کہ ہندوستانی فوج کے سرجیکل اسٹرائک کے بعد دنیا نے ہندستان کی طاقت کو مانا ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ پاکستان نے ہی ہندستان کی طاقت کو نہیں مانا اور سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور تقریبا ہر روز فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات کرنے اچانک لاہور پہنچ گئے لیکن بدلے میں وہاں سے کیا ملا۔ اس کے بعد سے ہندستانی فوجی تنصیبات پر دہشت گردانہ حملے بڑھ گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز