کسانوں کے معاملے پر بحث سے پہلے ایس پی نے کیا ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ

Jul 19, 2017 02:25 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 02:26 PM IST

نئی دہلی۔ دلتوں، کسانوں، اقلیتوں اور چین-پاکستان جیسے سنگین موضوعات کو پورا اپوزیشن لوک سبھا میں اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران مانسون اجلاس کے تیسرے دن سماجوادی پارٹی کے ایم پی نریش اگروال نے راجیہ سبھا میں ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ سے منسلک سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ محکموں کے سیکرٹریوں سے بھی کم ہے۔ اگروال چاہتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ سیکرٹریوں سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کو ساتویں پے کمیشن کے ساتھ شامل کر دیجئے۔

ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ بڑھانے کا مسئلہ اس سے پہلے لوک سبھا میں بھی اٹھ چکا ہے۔ اس کی پیروی اس سے پہلے کے سیشن میں راجیو شکلا اور سیتا رام یچوری جیسے لیڈر بھی کر چکے ہیں۔ یچوری کہہ چکے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ کابینہ سکریٹری سے ایک روپے زیادہ ہونی چاہئے۔ اس وقت کابینہ سکریٹری کو فی مہینہ 2.5 لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے۔

کسانوں کے معاملے پر بحث سے پہلے ایس پی نے کیا ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ

کیا ہیں ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور ملنے والی سہولیات

تنخواہ: لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں کے ارکان کو فی مہینہ 50000 روپے تنخواہ ملتی ہے۔

بھتہ: ایم پی اگر پارلیمنٹ ہاؤس میں رکھے رجسٹر میں دستخط کرتے ہیں تو 2000 روزانہ کا بھتہ ملتا ہے۔

آئینی بھتہ: اس کے تحت ممبران پارلیمنٹ کو ہر ماہ 45000 روپے دئیے جاتے ہیں۔

آفس خرچ: اس کے لئے ہر ممبر پارلیمنٹ کو 45000 روپے ماہانہ ملتا ہے۔ اس میں سے 15 ہزار اسٹیشنری اور پی اے پر 30 ہزار روپے خرچ کر سکتا ہے۔

ریل کا سفر: ہر ماہ کی بنیاد پر ایک مفت نان ٹرانسفریبل فرسٹ کلاس اے سی یا ایگزیکٹیو کلاس کا ٹرین پاس ملتا ہے۔

ہوائی سفر: ہوائی سفر کا 25 فیصد ہی دینا پڑتا ہے۔ اس رعایت کے ساتھ ایک رکن پارلیمنٹ سال بھر میں 34 ہوائی سفر کر سکتا ہے۔

سڑک کا سفر: اپنی یا حکومت کی گاڑی سے کہیں کا بھی سفر کرنے پر 16 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے سفری بھتہ ملتا ہے۔

ٹیلی فون کی سہولت: ہر رکن کو تین فون رکھنے کا حق ہے۔ ان میں سے ایک فون رکن پارلیمنٹ کے گھر پر ہو گا۔ دوسرا دہلی آفس میں اور تیسرا خود رکن پارلیمنٹ کی چنی ہوئی جگہ یا ان کی دوسری رہائش گاہ پر لگے گا۔ ہر ایک سال میں کل 50000 لوکل کال کرنے کی چھوٹ ہے۔

دیگر سہولیات: فی سال 4000 كلوليٹر پانی اور 50000 یونٹ بجلی سپلائی رکن پارلیمنٹ کے کوٹے کے تحت مفت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی سول سروسز کے کلاس -1 آفیسر کو ملنے والی طبی سہولیات بھی ملتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز