مایاوتی نے الیکشن ہارنے کے بعد میرے سامنے مسلمانوں کو برا بھلا کہا: نسیم الدین صدیقی

May 11, 2017 05:06 PM IST | Updated on: May 11, 2017 05:13 PM IST

لکھنئو۔ بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد میڈیا سے روبرو ہوئے نسیم الدین صدیقی نے مایاوتی پر سنگین الزام منڈھتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو برا بھلا بولا۔ اس کی مخالفت انہوں نے خود مایاوتی سے کی۔ لکھنؤ میں میڈیا کے سامنے آئے نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ آپ کو مقصد پتہ ہے۔ آج میں جو بھی واقعات ہوئے ہیں، اس پر تھوڑا سا پیچھے جا کر مکمل معلومات دینا چاہتا ہوں۔ جو بھی کارروائی الزام لگا کر، حقائق کو چھپا کر میرے، میرے بیٹے اور میرے ساتھیوں کے خلاف کی گئی ہے، اس کا میں انکشاف کروں گا۔ اس سے پہلے میں بتانا چاہوں گا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد مایاوتی نے دہلی میں مجھے بلایا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا افضل بھی تھا۔ مایاوتی نے مجھ سے پہلا سوال یہی کیا کہ مسلمانوں نے بی ایس پی کو ووٹ کیوں نہیں دیا؟ میں نے کہا کہ اصلیت یہ ہے کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی اتحاد سے پہلے مسلمان ہمارے ساتھ تھا لیکن اتحاد کے بعد مسلمان كنفیوز ہوگیا اور بٹ گیا۔ ہمیں بھی اس کا ووٹ ملا لیکن اتنا نہیں۔

اس پر وہ بولیں کہ میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں۔ ہم نے 1993 میں ایس پی سے اتحاد کیا تو ہمیں مسلمان نہیں ملا۔ ہم نے 1996 میں کانگریس سے اتحاد کیا تو ہمیں مسلمان نہیں ملا۔ اس کے بعد مایاوتی نے الٹا سیدھا بولنا شروع کر دیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ میں نے کہا کہ میں کسی کو ملانے نہیں لایا۔ اس کے بعد بیلنس کرنے کے لئے وہ آہستہ آواز میں بولیں تو اپر کاسٹ نے، کسی نے ووٹ نہیں دیا۔ اس کے بعد سب کو موردالزام ٹھہرانے لگیں۔ اس کے بعد انہوں نے 19 اپریل کو ریاست کے تمام رہنماؤں کے سامنے میرا نام لئے بغیر کہا کہ ایک سینئر رہنما نے کہا کہ اتحاد کی وجہ سے ایسا ہوا۔ اس سے وہ متفق نہیں ہیں۔

مایاوتی نے الیکشن ہارنے کے بعد میرے سامنے مسلمانوں کو برا بھلا کہا: نسیم الدین صدیقی

مایاوتی نے مجھے پراپرٹی بیچ کر پیسہ دینے کو کہا

انیس اپریل کے بعد ایک بار پھر مایاوتی کا فون میرے پاس آیا۔ اس بار انہوں نے مجھے اکیلے آنے کے لئے کہا۔ میں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی کو پیسے کی ضرورت ہے۔ میرا جواب تھا کہ وہ تو ہمیشہ ہی رہتی ہے۔ مایاوتی نے مجھ سے کہا کہ 50 کروڑ روپے کا انتظام کرو۔ جب میں نے کہا کہ 50 کروڑ کہاں سے لاوں گا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپنی پراپرٹی بیچ دو۔ مایاوتی نے کہا کہ اپنی ، رشتہ داروں اور قریبی لوگوں سے پیسہ جٹاو، پراپرٹی بیچ دو۔ اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں رشتہ داروں سے کچھ پیسہ جمع کیا اور انہیں کہا کہ اتنا ہی ابھی انتظام ہو پایا ہے۔ لیکن وہ بھڑک گئیں۔ اس کے بعد میں نے پیسے کا انتظام کرنے کے لئے معذرت ظاہر کی۔

مایاوتی نے مجھے اپنی بیٹی کو دفنانے بھی نہیں دیا

نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ مایاوتی جب بلسی سے الیکشن لڑ رہی تھیں، اس دوران تمام ذمہ داری میرے اوپر ہی تھی۔ اس دوران میری اکلوتی بیٹی بیمار ہو گئی۔ بیوی کا فون آیا کہ فورا آ جاؤ، شاید بچے گی نہیں۔ میں نے مایاوتی سے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ لیکن انہوں نے جانے نہیں دیا اور کہا کہ پارٹی سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ اس کے بعد میری بیٹی کی موت ہو گئی۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اس کی تدفین میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ میں نہیں گیا اور میری بیٹی دفن کر دی گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز