نسیم الدین صدیقی نے جاری کئے مایاوتی کے آڈيو ٹیپ ، کہا : ایسے 150 ٹیپ اور ہیں

بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد میڈیا سے روبرو ہوئے نسیم الدین صدیقی نے مایاوتی اور ان کی بات چیت کے کچھ آڈيو کلپ جاری کئے ہیں

May 11, 2017 07:23 PM IST | Updated on: May 11, 2017 07:23 PM IST

لکھنو : بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد میڈیا سے روبرو ہوئے نسیم الدین صدیقی نے مایاوتی اور ان کی بات چیت کے کچھ آڈيو کلپ جاری کئے ہیں ، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ یہ آڈيو ٹیپ ثبوت ہیں کہ امیدواروں سے وصولی کے لئے خود مایاوتی ہی کہتی تھیں، جس پر میں صرف عمل کرتا تھا۔ ایسے 150 ٹیپ ان کے پاس اور بھی ہیں۔

لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ آپ کو مقصد معلوم ہے، آج جو بھی واقعات ہوئے ہیں ، اس پر تھوڑا سا پیچھے جا کر پوری معلومات دینا چاہتا ہوں، بے بنیاد الزام لگا کر، حقائق کو چھپا کر میرے، میرے بیٹے اور میرے ساتھیوں کے خلاف جو بھی کارروائی کی گئی ہے، اس کا میں انکشاف کروں گا۔

نسیم الدین صدیقی نے جاری کئے مایاوتی کے آڈيو ٹیپ ، کہا : ایسے 150 ٹیپ اور ہیں

اس سے پہلے میں بتانا چاہوں گا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد مایاوتی نے دہلی میں مجھے بلایا، میرے ساتھ میرا بیٹا افضل بھی تھا، مایاوتی نے مجھ سے پہلا سوال یہی کیا کہ مسلمانوں نے بی ایس پی کو ووٹ کیوں نہیں دیا؟ میں نے کہا کہ اصلیت یہ ہے کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی اتحاد سے پہلے مسلمان ہمارے ساتھ تھے ، لیکن اتحاد کے بعد مسلمان کنفیوز ہوگئے اور منقسم ہوگئے ، ہمیں بھی ان کا ووٹ ملا ، لیکن اتنا نہیں۔

اس پر وہ بولیں کہ میں آپ کی بات سے متفق نہیں ہوں، ہم نے 1993 میں ایس پی سے اتحاد کیا ، تو ہمیں مسلمان ووٹ نہیں ملے ، ہم نے 1996 میں کانگریس سے اتحاد کیا تو ہمیں مسلمان ووٹ نہیں ملے ، اس کے بعد مایاوتی نے الٹا سیدھا بولنا شروع کر دیا ، جس پر میں نے کہا کہ یہ غلط ہے، میں نے کہا کہ میں نے کسی ملانے نہیں لایا۔

اس کے بعد بیلنس کرنے کے لئے وہ آہستہ آواز میں بولیں تو اپر کاسٹ نے، کسی نے ووٹ نہیں دیا، اس کے بعد سب کو موردالزام ٹھہرانے لگیں، اس کے بعد 19 اپریل کو ریاست کے تمام رہنماؤں کے سامنے میرا نام لئے بغیر مایاوتی نے کہا کہ ایک سینئر رہنما نے کہا کہ اتحاد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اور اس سے میں متفق نہیں ہوں۔

نسیم صدیقی نے کہا کہ 19 اپریل کے بعد ایک بار پھر مایاوتی کا فون میرے پاس آیا، اس مرتبہ انہوں نے مجھے اکیلے آنے کے لئے کہا، میں ملنے گیا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی کو پیسے کی ضرورت ہے، میرا جواب تھا کہ وہ تو ہمیشہ ہی رہتی ہے۔ مایاوتی نے مجھ سے کہا کہ 50 کروڑ روپے کا انتظام کرو، جب میں نے کہا کہ 50 کروڑ کہاں سے لاوں گا ، تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپنی پراپرٹی فروخت کردو۔ مایاوتی نے کہا کہ خود ، رشتہ داروں اور قریبی لوگوں سے پیسہ اکٹھا کرو، پراپرٹی فروخت کردو، اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کچھ پیسے جمع کئے اور انہیں کہا کہ اتنا ہی ہی ابھی انتظام ہو پایا ہے، لیکن وہ بھڑک گئیں۔ اس کے بعد میں نے پیسے کا انتظام کرنے کے سے معذرت ظاہر کردی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز