ہوشیار ہوجائیں ! ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر ہو سکتی ہے کیش کی قلت ، جانیں کیا ہے وجہ ؟

Apr 08, 2017 02:53 PM IST | Updated on: Apr 08, 2017 02:53 PM IST

نئی دہلی : آپ کو یاد ہوگا کہ نوٹ بندی کے بعد نقد کے لیے آپ کو اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر آپ کو نقد کی بھاری قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے نوٹوں کی سپلائی کم کر دی ہے۔

سی این بی سی آواز کے پاس خصوصی معلومات ہے کہ آر بی آئی نے بینکوں کے لئے کیش فلو 25 فیصد تک کم کر دیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے یہ سب ایک پلان کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کے کئی شہروں میں اے ٹی ایم یا تو خالی ہیں، یا ان کے شٹر ڈاؤن ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ہوشیار ہوجائیں ! ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر ہو سکتی ہے کیش کی قلت ، جانیں کیا ہے وجہ ؟

دراصل نوٹ بندی میں تو ڈیجیٹل ٹرانزیکشن نے خوب زور پکڑا ، لیکن چار ماہ بعد اب دوبارہ کیش کا چلن زیادہ ہوگیا ہے۔ اب ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کو دوبارہ فروغ دینے کیلئے کیش کی سپلائی کم کر دی گئی ہے۔ ظاہر ہے آر بی آئی کے اس قدم سے لوگوں کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے بینکوں کے لئے نوٹوں کی سپلائی کم کر دی ہے۔ مغربی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں نقد رقم کی زیادہ کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کئی بڑے سرکاری بینکوں میں جمع کے مقابلہ نکاسی زیادہ ہو رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کی جگہ لوگ کیش ٹرانزیکشن پر لوٹتے نظر آئے۔ نقد رقم کا استعمال روکنے کے لئے آر بی آئی نے سپلائی میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی بینکوں میں نقد رقم کی کمی زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کیش کی اس قلت کے بارے میں بینکوں کا تو کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ہی کیش کی کم فراہمی ہو رہی ہے۔

ادھر یہ خبر ملی ہے کہ 31 مارچ کو ختم ہوئے ہفتے میں کیش سرکولیشن 32470 کروڑ سے گھٹ کر 22190 کروڑ روپے پر آ گیا ہے، جبکہ جنوری سے مارچ کے درمیان یہ ہر ہفتہ تقریبا 33000 کروڑ کی اوسط سے بڑھا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز