ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی میں پس رہے ہیں کشمیری عوام : فاروق عبداللہ

Nov 06, 2017 07:04 PM IST | Updated on: Nov 06, 2017 07:06 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منقسم کشمیر کے آر پار اٹانومی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70سال سے دونوں طرف سے کشمیری ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی میں پس رہے ہیں۔ خونی لکیر کھنچ جانے کی وجہ سے لاتعداد لوگ اپنے عزیز و اقارب سے بچھڑ گئے ہیں اور ہزاروں اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیکھنے کی آس لئے اس دنیا سے بھی چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان اور پاکستان کی قیادت سے پھر ایک بار اپیل کرتا ہوں کہ دونوں ممالک ہٹ دھرمی اور انا کو ترک کرکے غیر مشروط مذاکراتی عمل شروع کرے تاکہ تمام حل طلب معاملات بشمول مسئلہ کشمیر پر بات ہو۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز شمالی کشمیر کے ضلع کپوارڑہ کے سرحدی اور دورافتادہ علاقوں کے 4روزہ دورے کے دوران کیرن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے آر پار تمام روایتی راستوں کو کھولنے اور سرحدوں کو نرم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان سے سوالیہ انداز میں کہا کہ سرحدوں پر کب تک تناؤ، کشیدگی اور خون خرابہ جاری رہے گا؟ کب تک آر پار قیمتی جانوں کا اتلاف ہوتا رہے گا؟ کب تک آپس میں بچھڑے ہوئے عزیز و اقارب ایک دوسرے سے ملنے کا انتظار کریں گے؟ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ جموں وکشمیر کے اصل مالک یہاں رہنے والے پشتینی باشندے ہیں اور یہاں کے عوام اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں،طاقت کے بلبوتے پر ہماری ریاست کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہماری حق کی آواز دبائی جاسکتی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی دشمنی میں پس رہے ہیں کشمیری عوام : فاروق عبداللہ

دفعہ370اور 35اے کے خلاف ہورہی سازشوں پر شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریت کردار کو مسخ کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان دفعات سے ریاست جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت ، وحدت اور کشمیریت قائم و دائم ہے اور ان کی رکھوالی کرنا ہمارے لئے موت و حیات کا سوال ہے۔ مرکزی کی غلطیوں ،وعدہ خلافیوں اور بار بار مرکزی قوانین نافذ کرنے سے آج ریاست کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں، حالات سدھرنے کی کوئی بھی کرن دکھائی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ مہاراجہ نے اُس بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا جس ہندوستان ہند، مسلم ، سکھ ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ اپنی اپنی مذہبی آزادی اور آزادئ اظہاررائے کے ساتھ بودباش کرسکیں لیکن اس وقت بھارت میں اقلیتیں خصوصاً مسلمانوں عدم تحفظ کی شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 35اے پر حملہ براہ راست جموں وکشمیر کی پہچان پر حملہ ہے اور ہم سب کو اپنی ریاست کے تقدس اور عزت و آبرو کے دفاع کے لئے متحد ہونا چاہئے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہماری ریاست پہلے ہی اقتصادی بحران کی شکار تھی ، سیلاب اور خراب حالات نے یہاں کے لوگوں کی اقتصادی طور پر کمر توڑ دی تھی لیکن جی ایس ٹی کے اطلاق نے زخموں پر نمک پاشی کا کام کردیا، اقتصادی بدحالی میں اگر کوئی کثر باقی رہ گئی تھی تو وہ اس قانون کے اطلاق سے پوری ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ریاست حکمران جماعت پی ڈی پی کو یہاں کے قانون لاگو نہ کرنے کیلئے بہت کوشش کی لیکن حکمران گٹھ جوڑ نے اپنی ڈولتی ہوئی کرسی بچانے کے لئے ریاستی عوام سے دھوکہ کیاہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے سڑکوں کی خستہ حالی ، بجلی اور پانی کی عدم دستیابی اور دیگر ضروریاتِ زندگی اور لازمی خدمات کے فقدان پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 3سال سے ریاست کسی بھی شعبے میں آگے نہیں بڑی ہے، بلکہ ریاست کو پیچھے ہی دھکیلا جارہا ہے، تعمیر و ترقی کا فقدان ہے، کورپشن عروج پر پہنچ چکا ہے، چور دراوزے سے بھرتیاں کی جارہی ہیں، جبکہ حکمرانوں کے اقرباء کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے۔ اس موقعے پر پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، ضلع صدر قیصر جمشید لون(ایم ایل سی) اور پارٹی لیڈر ناصر خان نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز