نیشنل کانفرنس کا حکومت پر کشمیر کو اذیت خانے میں تبدیل کردینے کا الزام ، تاہم ’راج بھون مارچ‘ ناکام

احتجاجی ریلی جمعرات کی صبح یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سے برآمد ہوئی اور راج بھون کی جانب مارچ کرنے لگی لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے ریلی کے شرکاء کو سونہ وار میں گپکار کے قریب روک کرآگے جانے کی اجازت نہیں دی

Jul 27, 2017 05:00 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 05:00 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس نے جمعرات کے روز ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کا پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار کی مبینہ غلط پالیسیوں، آئے روز ہلاکتوں، کرفیو، کریک ڈاؤنوں، بندشوں، فورسز زیادتیوں، دفعہ370کو زک پہنچانے،راشن کی قیمتوں اور بجلی فیس میں بے جا اضافہ ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیوں اور چور درازے سے برتیوں کے خلاف راج بھون تک مجوزہ احتجاجی مارچ کو ناکام بنادیا۔

این سی کی ایک احتجاجی ریلی جمعرات کی صبح یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سے برآمد ہوئی اور راج بھون کی جانب مارچ کرنے لگی لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے ریلی کے شرکاء کو سونہ وار میں گپکار کے قریب روک کرآگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اگرچہ پارٹی لیڈران آگے بڑھنے کی کوشش لیکن پولیس نے ریلی کے شرکا کو گرفتار کرکے نزدیکی پولیس سٹیشن رام منشی باغ میں بند کردیا۔ گرفتارشدگان میں نیشنل کانفرنس یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر بھی تھے۔

نیشنل کانفرنس کا حکومت پر کشمیر کو اذیت خانے میں تبدیل کردینے کا الزام ، تاہم ’راج بھون مارچ‘ ناکام

fiel photo

ریلی کی قیادت پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کر رہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، ممبرانِ قانون سازیہ مبارک گل، شمیمہ فردوس، علی محمد ڈار ، محمد سعید آخون، کے علاوہ صوبائی سکریٹری شوکت احمد میر، ضلع صدر پیرآفاق احمد، عرفان احمد شاہ، وسطی زون کے سینئر نائب صد رمنظور احمد وانی، محمد یاسین شاہ، ضلع صدر بڈگام حاجی عبدالاحد ڈار، بلاک صدور صاحبان، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیداران کے علاوہ کارکنوں کی ایک بڑی جمعیت نے شرکت کی۔ جلوس میں پی ڈی پی سرکار کی مبینہ عوام کش اور کشمیر دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کی احتجاجی تحاریر درج تھیں۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ موجودہ حکومت کشمیر دشمن اور عوام دشمن ثابت ہوئی ہے۔ حکومت نے عوام کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ پی ڈی پی حکومت نے گذشتہ 3سال میں شخصی راج کے ظلم و ستم کے ریکارڈ بھی مات کردیے، آئے روز کرفیو اور بندشوں سے لوگوں کا جینا حرام ہوگیاہے، نمازوں پر پابندی اور مساجد پر تالے چڑھانے اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ بے جا گرفتاریوں اور بلاوجہ پکڑ دھکڑ سے نوجوان پود عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں، ہر دن کسی نہ کسی پر پی ایس اے کا اطلاق عمل میں لایا جاتا ہے، جنوبی کشمیر میں دہشت کا ماحول ہے جبکہ وسطی کشمیر ایک قید خانے میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے جبکہ شمالی کشمیر میں بھی آئے روز مظالم کی نئی نئی داستانیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں،گویا وادی کشمیر کو ایک اذیت خانہ میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ساگر نے کہا کہ پیلٹ سے نوجوانوں کو نابینا اور اپاہج بنانا بھی معمول بن کر رہ گیا گیا۔ عوام خصوصاً نوجوانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے ریکارڈ مات کرنے والوں کو اعزازات سے نوازا جارہاہے۔

Loading...

بیروہ کے فاروق ڈار کو جیپ سے باندھے والے افسر کو جہاں ایوارڈ دیا گیا وہیں مژھل فرضی انکاؤنٹر میں ملوث 5فوجی اہلکاروں کی عمر قید کی سزا نہ صرف معطل کی گئی بلکہ اُنہیں ضمانت پر رہا بھی کیا گیا۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کشمیر میں جنگل راج قائم ہے، لاقانونیت اور غیر یقینیت عروج پر ہے۔ لوگ اقتصادی بدحالی اور سیاسی انتشار کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370کو آئے روز کمزور کیا جارہا ہے کیونکہ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت نے اس کیلئے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے اطلاق کے بعد ریاستی اسمبلی کو بالائے طاق رکھ کر راجیہ سبھا میں ’’اعداد شمار کا مجموعہ (ترمیمی) بل2017‘‘ کو پاس کیا گیا اور اس طرح جموں وکشمیر کی اسمبلی کی منظوری کے بنا ہی ریاست میں یہ قانون نافذ کیاگیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے اقتدار کی خاطر اپنا ضمیر تک گروی رکھ دیا ہے اس لئے حکومت کی طرف سے مرکز کے اقدام کے خلاف کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی۔ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ ، اُن کے وزراء اور اُن کے خودساختہ لیڈران اندھے، بہرے اور گونگے بن کر اقتدار کے مزے اور خزانہ عامرہ کے لوٹنے میں مصروف ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز