دفعہ 35 اے کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا : نیشنل کانفرنس

Aug 20, 2017 09:05 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 09:05 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے الزام لگایا کہ ریاست میں جی ایس ٹی کے اطلاق کے بعد پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت ریاست کا آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے اور اس کے لئے یہاں کے عوام میں علاقائی بنیادوں پر دشمنی کے بیچ بوئے جارہے ہیں۔ ریاست اور ریاست کے لوگوں کے جمہوری ، آئینی اور سیاسی حقوق کے لئے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی ان تھک جدوجہد تاریخ میں سنہری حروف درج ہے اور ہر کسی کو اس عظیم لیڈر کی قربانیوں سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے لئے تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

عظیم قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت ہی جموں وکشمیر کو ایک منفرد شناخت حاصل ہوئی اور ہم کسی کو بھی اپنی اس پہنچان اور سیاسی حقوق پر ڈاکہ زنی کرنے کی اجازت نہیں دیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سیاسی صلح کار تنویر صادق نے اتوار کے روز سری نگر کے حلقہ انتخاب جڈی بل میں دفعہ 35 اے سے متعلق جانکاری مہم کو آگے لے جاتے ہوئے مختلف مقامات پبلک میٹنگوں،معزز شہریوں اور عام لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔

دفعہ 35 اے کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا : نیشنل کانفرنس

علامتی تصویر

نیو کالونی، گاسی یار، غنی ڈوری اورجڈی بل کے مختلف علاقوں کے دوران کے دوران تنویر صادق نے کہا کہ پی ڈی پی کے ایک وزیر نے دفعہ370کو جموں وکشمیر کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا ہے اور یہ وہی الفاظ ہیں جو آر ایس ایس اور بھاجپا والے ماضی میں پروپیگنڈا کے تحت ریاست کی خصوصی پوزیشن سے متعلق استعمال کرتے آئے ہیں۔

تنویر صادق نے کہاکہ پی ڈی پی مخلوط اتحاد اور مرکزی حکومت کی ملی بھگت سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لاکر ریاست کی مالی خودمختاری پر شب خون مارا گیا۔ ابھی ریاست کی خصوصی پوزیشن پر جی ایس ٹی کے اطلاق کا زخم ہرا ہی تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کو آگے لے جاتے ہوئے دفعہ 35 اے کی موجودگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ پی ڈی پی یہاں کی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود اس سب میں ایک معاونت کار ثابت ہورہی ہے۔ پی ڈی پی کے ہی اشتراک سے ریاست دشمنوں یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لانے میں کامیاب ہوئے اور پھر اس قانون کے اطلاق کو جموں وکشمیر کے بھارت کے ساتھ انضمام کا پہلا قدم قرار دیا۔

تنویر صادق نے کہاکہ اگر مرکزی سرکار دفعہ 35 اے کا دفاع کرنے کے لئے ایک مضبوط حلف نامہ دائر نہیں کرتی ہے اور اس کا فیصلہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے خلاف آتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس دفعہ 35 اے کی حفاظت کے لئے ہر ایک ممکن قدم اٹھائے گی، ہم نے پی ڈی پی کی طرح اپنے ضمیر گروی نہیں رکھے ہیں۔ میں جموں، کشمیر اور لداخ خطے کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دفعہ 35 اے کے فوائد اور اس کے نہ رہنے سے پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز