جموں و کشمیر : دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی : نیشنل کانفرنس

Aug 09, 2017 05:13 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 05:13 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ کشمیر دشمن عناصربھارتی آئین کی دفعہ 35 اے اور دفعہ370کو ختم کرنے کے لئے جس طرح سے آج ڈور دھوپ کررہے ہیں وہ اہل ریاست کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور اتحاد و اتفاق ہی ہم اس چیلنج کا سامنا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست کے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کی پہنچان، انفرادیت اور شناخت کے بچاؤ کے لئے آگے آنا چاہئے۔

ڈاکٹر مصطفےٰ کمال نے بدھ کو یہاں این سی پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی حامیوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’نئی دلی کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ دفعہ 35 اے اور 370کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خوانی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے‘۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گزشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ 35A کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔

جموں و کشمیر : دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی : نیشنل کانفرنس

علامتی تصویر

انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ دفعہ 35 اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے۔ دفعہ 35 اے دراصل دفعہ 370 کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953 میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35A کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے۔

این سی معاون جنرل سکریٹری نے 9 اگست 1953ء کو شیخ محمد عبداللہ کی ’وزیر اعظم جموں وکشمیر‘ کے عہدے سے غیرآئینی معزولی اور گرفتاری کو ریاست میں تمام بحرانوں کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی روز کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مار کرجمہوریت اور آئین کی مٹی پلید کردی گئی۔ انہوں نے کہا ’ 9اگست کا سانحہ حکومت ہند کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اسی روز جموں وکشمیر کے عوام کا نئی دلی سے بھروسہ اُٹھ گیا اور تب سے لیکر آج تک یہاں بے چینی اور غیر یقینیت چھائی ہوئی ہے‘۔

ڈاکٹر کمال نے کہا ہے کہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ نئی دلی اس بات کو تسلیم کرے کہ کشمیر میں بحران کی بنیاد 1953میں ہوئی وہ انصافی ہے جب جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو دبانے کے لئے یہاں کے جمہوری طور منتخب وزیر اعظم کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا ’جو کچھ 9اگست 1953کو ہوا وہ آج بھی کشمیرکے عوام کو یاد دلاتا ہے کہ نئی دلی یہاں سیاسی جذبات کو قابو کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرتی ہے یا پھر وقتی طور پر آگ بجھانے کی نرم پالیسی اختیار کرتی ہے۔ جب تک مسئلہ کشمیر کے بنیاد حقائق کو تسلیم کرکے اسے سیاسی طور پر حل نہیں کیا جاتا ، تب تک لوگوں کے جذبات اور احساسات کو طاقت کے بلبوتے پر مٹانے کی تمام کوششیں الٹی پڑ جائیں گی‘۔

انہوں نے مرکزی سرکار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حیلے بہانوں اور ذمہ داریوں سے بھاگنے کی گمراہ کن پالیسیاں اب اور نہیں چلیں گی۔ کشمیر کا مسئلہ اقتصادی پیکیج یا پھر دہشت گردی کا مسئلہ نہیں، یہ مسئلہ کشمیریوں کے عزت و آبرو اور اُن کے سیاسی جذبات کا مسئلہ ہے ۔ نئی دلی کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کریں اور تمام گروپوں کو ساتھ لیکر کوئی حتمی حل تلاش کرے۔اس کے ساتھ ساتھ9اگست 1953کے بعد جموں وکشمیر سے چھینی گئی تمام خصوصی مراعات اور آئینی و جمہوری حقوق کو بحال کیا جائے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو ذاتی طور پر مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے کوششوں کی پہل کرنی چاہئے، تاکہ اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی پائیدار حل سامنے نکل کر آئے، کیونکہ اسی میں اُن کے ملک کی ترقی ، امن اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز