نیشنل کانفرنس کا الزام ، جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کی سازشیں بڑے پیمانے پر جاری

Sep 13, 2017 10:06 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:06 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی ، بی جے پی کی مخلوط حکومت پر ریاست کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جانے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور خصوصی پوزیشن کو مسخ کرنے کی بھی بڑے پیمانے پر سازشیں رچائی جارہی ہیں۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’موجودہ نااہل حکمران ریاست کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جارہے ہیں، ریاستی عوام کے مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے، بے روزگار کی حدیں پار ہوچکی ہیں، تاجروں کے حقوق پر شب خون مارا جارہا ہے جبکہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور خصوصی پوزیشن کو مسخ کرنے کی بھی بڑے پیمانے پر سازشیں رچائی جارہی ہیں‘۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن اور خصوصی مراعات کو دھچکا لگنے کا اندیشہ اُسی روز ظاہر ہوگیا تھا جب پی ڈی پی نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرکے بھگوا جماعتوں کے کشمیر دشمن ایجنڈا پر کام شروع کیا ۔

نیشنل کانفرنس کا الزام ، جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کی سازشیں بڑے پیمانے پر جاری

علامتی تصویر

ڈاکٹر کمال کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پی ڈی پی نے ہمیشہ کشمیر اور کشمیریوں کے مخالف کام کیا اور بعد میں اس کے الزامات دوسروں کے سر تھوپنے کی مذموم کوششیں کیں۔ یہ وہی جماعت نے جس کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید نے بحیثیت وزیر داخلہ ریاست جموں وکشمیر کو شورش زدہ علاقہ اور یہاں افسپا جیسے کالے قوانین لاگو کیا اور لاکھوں کا فوجی جماؤ عمل میں لایا اور پھر اسی جماعت کے لیڈران افسپا اور فوجی انخلاء کا واویلا کرنے لگے۔ یہ وہی جماعت نے جس نے شرائن بورڈ کو زمین منتقل کرکے 2008میں یہاں حالات کو آگ کی نذر کردیا ، جن حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے برسوں لگے تھے۔ اُس وقت بھی اس جماعت نے اپنے اتحادیوں کو ساتھ چھوڑ کر اپنا پلو جھاڑنے کی بھر پور کوشش کی۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گذشتہ پی ڈی پی کی حکومت کے دوران گذشتہ 3سال میں جی ایس ٹی سمیت 3مرکزی قوانین کو ریاست پر لاگو کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز