پنجاب کے وقار کی بحالی کے لئے لڑائی لڑنے کی غرض سے میں کانگریس میں شامل ہوا: سدھو

Jan 16, 2017 12:48 PM IST | Updated on: Jan 16, 2017 03:51 PM IST

نئی دہلی۔ کرکٹ سے سیاست کی دنیا میں آنے والے نوجوت سنگھ سدھو نے آج کہا کہ وہ پنجاب کو بچانے کے لئے کانگریس میں آئے ہیں اس لئے وہ کسی بھی لیڈر کے خلاف اور کہیں سے بھی الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہیں ۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر پارٹی میں شامل ہونے کے ایک دن بعد مسٹر سدھو نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہا کہ پنجاب کا وقار بحال کرنے کے لئے ان کی لڑائی ہے اور اسی مقصد سے وہ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ۔ کانگریس کی قیادت اس مہم میں انہیں جس لیڈر کے ماتحت اور جس سیٹ سے بھی الیکشن لڑنے کو کہے گی وہ پارٹی ہائی کمان کے حکم کا احترام کریں گے۔

سدھو نے کہا کہ وہ پنجاب کے وقار کی بحالی کے لئے لڑائی لڑنے کی غرض سے کانگریس میں آئے ہیں ۔ پنجاب کو کس طرح بچانا ہے اور وہاں پھیلی نشہ خوری کی لعنت سے نوجوانوں کو کس طرح محفوظ رکھنا ہے ، اس بارے میں ان کی کانگریس کے نائب صدر سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کی ترقی کے لئے ٹھوس پالیسی تیار کی جائے گی اور پنجاب کو اس کا وقار واپس لوٹانے کی لڑائی مضبوطی سے لڑی جائے گی۔ پنجاب کی شرومنی اکالی دل کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مسٹر سدھو نے کہا کہ بادل حکومت کے وزراء اور بڑے لیڈروں کے تعلقات نشے کے سوداگروں سے ہیں۔ پنجاب حکومت خزانے کا استعمال اپنا ذاتی خزانہ بھرنے کے لیے کرتی رہی ہے اور اس نے عوام کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے اس لئے اب بادل کے تخت گرادیئے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔

پنجاب کے وقار کی بحالی کے لئے لڑائی لڑنے کی غرض سے میں کانگریس میں شامل ہوا: سدھو

انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کی ڈھال رہی ہے لیکن اسے اب کھوکھلا بنا دیا گیا ہے۔ بادل حکومت نے اناج پیدا کرنےو الوں کو بھکاری بنا کر چھوڑ دیا ہے وہاں کی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے اس لئے یہ جنگ سدھو کی ذاتی جنگ نہیں بلکہ یہ پنجاب کے وجود اور اس کے وقار کو بچانے کی لڑائی ہے۔  سدھو نے کہا کہ پنجاب میں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ وہاں کی تقریبا دو کروڑ لوگوں کی آبادی میں سے ایک کروڑ تین لاکھ نوجوان ہیں جن میں 55 فیصد آبادی 18 سے 39 سال کے درمیان کے لوگوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اس کا کھویا وقار لوٹانے کے لئے ان نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور کانگریس میں آکر وہ یہ کام کریں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) چھوڑنے اور کانگریس میں شامل ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں سدھو نے کہا کہ بی جے پی نے پنجاب میں اتحاد کے لئے اکالی دل کا انتخاب کیا تھا اور انہوں نے پنجاب کو بچانے کا متبادل منتخب کیا تھا۔ اس معاملے پر اختلاف رائے ہونے کے بعد انہوں نے بی جے پی چھوڑ دی۔ عام آدمی پارٹی (آپ )سے ان کی بات چیت ضرور ہوئی تھی لیکن یہ پارٹی انہیں الیکشن نہیں لڑانا چاہتی تھی، اس لئے ان کے پاس کانگریس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ خیال رہے کہ بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ مسٹر سدھو کو کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے کل اپنی رہائش گاہ پر باقاعدہ طریقے پر پارٹی میں شامل کیا تھا۔ پارٹی میں ان کے شامل ہونے کا طویل عرصے سے تذکرہ چل رہا تھا، جبکہ ان کی بیوی ڈاکٹر نوجوت کور سدھو 28 نومبر کو کانگریس میں شامل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اسی دن کہا تھا کہ مسٹر سدھو جلد ہی پارٹی میں شامل ہو جائیں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق  سدھو امرتسر مشرقی اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑیں گے اور وہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے لئے مہم چلانے والے اہم لیڈر ہوں گے۔

کانگریس ریاست کی 117 رکنی اسمبلی کے لئے 100 سیٹوں پر اپنے امیدوار کا اعلان کر چکی ہے۔ ریاست میں ایک ہی مرحلے میں چار فروری کو انتخابات ہوں گے۔ پٹیالہ کے رہنے والے مسٹر سدھو 2004 میں امرتسر لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر پہلی بار لوک سبھا پہنچے تھے۔ پھر 2009 میں ہوئے منعقدہ عام انتخابات میں بھی انہوں نے اسی سیٹ پر جیت حاصل کی تھی اور اپریل 2016 میں وہ بی جے پی سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے گئے لیکن محض تین ماہ کے بعد جولائی میں انہوں نے راجیہ سبھا اور پھر پارٹی کی رکنیت سے بھی استعفی دے دیا۔ بعد میں انہوں نے سابق ہاکی کھلاڑی پرگٹ سنگھ کے ساتھ آوازے-پنجاب کے نام سے ایک نیا سیاسی فرنٹ بنایا تھا۔ مسٹر پرگٹ سنگھ بھی کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز