بابری مسجد انہدام کیس :طارق انور نے کیا فیصلہ کا خیر مقدم ، کہا : دیر سے ہی سہی مگر قانون کے ہاتھ مجرم کی گردن تک پہنچتے ہیں

Apr 20, 2017 10:05 PM IST | Updated on: Apr 20, 2017 10:05 PM IST

نئی دہلی: عدالت عظمیٰ کے ذریعہ بابری مسجد انہدام کے ملزمان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے تاریخی فیصلہ پر آج اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لوک سبھا میں این سی پی کے لیڈر ، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اورآل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر طارق انور نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے اور انصاف کی سمت میں ایک قدم آگے پیش رفت ہوئی ہے۔ مسٹرطارق انور نے کہاکہ مجرم مجرم ہوتے ہیں ، اس میں ذات ، مذہب ، کلاس اور کریٹ کا کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے عدالت کے تاریخی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا اور کہاکہ اس فیصلے سے ملک میں انصاف کی حکمرانی کے اصولوں کو فروغ حاصل ہوگا اور امن پسند لوگوں کا عدلیہ پر بھروسہ مزید مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ عمل تھا جس میں دیر سے ہی سہی لیکن ایک بار پھر انصاف کی آس جاگی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ مقدمہ کی موجودگی کے با وجود مسجد کو اس کے دستوری حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کی تاخیر سے ہی سہی عدالت میں جواب دہی ضرور ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ تمام تر دستوری تحفظات کے باوجودجس طرح 6دسمبر 1992کو جبر و ظلم کے ذریعہ حکومت و انتظامیہ کی نظروں کے سامنے دن کے اجالے میں مسجد شہید کر دیا گیا اور لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم کے اعلان کے باو جود کہ اس مسجد کو اسکی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کر وایا جائیگا ،اور آج تک وہ وعدہ دوبارہ پورا نہیں ہوسکا وہ انتہائی تشویشناک عمل ہے ۔

بابری مسجد انہدام کیس :طارق انور نے کیا فیصلہ کا خیر مقدم ، کہا : دیر سے ہی سہی مگر قانون کے ہاتھ مجرم کی گردن تک پہنچتے ہیں

مسٹرطارق انور نے کہاکہ ملک کی اکثریت نے ہمیشہ ہی ملکی دستور اور عدلیہ کے نظام کے مطابق مسجد سے متعلق مقدمات کی حمایت اور عدالتوں میں ملی تنظیموں نے مقدمے کی پیروی کی ہے اور آج بھی کر رہی ہیں جو خوش آئند ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ ملک کے سیکولر تانے بانے سے کھیلنا چاہتے ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچایاجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے نے ملک کے انصاف پسند لوگوں میں ایک بار پھر عدلیہ کے احترام میں اضافہ کیا ہے جس کی ان کی جانب سے تحسین کی جائے گی تاکہ وطن عزیز میں انصاف کی حکمرانی کی کوششوں کو تقویت حاصل ہو سکے اور مجرموں کو یہ پیغام جائے کہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں تاخیر سے ہی سہی لیکن مجرموں کی گردن تک ضرور پہنچتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز