نوٹ بندی سے متاثر معیشت کو پٹری پر لوٹنے میں لگے گا ایک سال

دیہاتی علاقوں میں صورتحال کافی خراب ہے۔ وہاں نقدی کی کافی قلت ہے اور سب کچھ معمول پر آنے میں کافی وقت لگے گا اور اس لئے معیشت کو پٹری پر آنے میں کم از کم ایک سال کا وقت لگے گا۔

Feb 22, 2017 07:40 PM IST | Updated on: Feb 22, 2017 08:02 PM IST

نئی دہلی: صنعتی تنظیم ایسو چیم کے نئے صدر اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والی مونیٹ گروپ کے سربراہ سندیپ ججوڈیہ نے آج کہا کہ معیشت کو نوٹ بندی سے پہلے کی حالت میں واپس لوٹنے میں ایک سال اور لگ جائے گا۔ مسٹر ججوڈیا نے چیمبر آف کامرس کے سربراہ طور پر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دیہاتی علاقوں میں صورتحال کافی خراب ہے۔ وہاں نقدی کی کافی قلت ہے اور سب کچھ معمول پر آنے میں کافی وقت لگے گا اور اس لئے معیشت کو پٹری پر آنے میں کم از کم ایک سال کا وقت لگے گا۔

قبل ازیں وزیر مالیات ارون جیٹلی دعویٰ کرچکے ہیں کہ تین ماہ کے اندر معیشت کی حالت پوری طرح معمول پر آجائے گی۔ انہوں نے سرکار سے مانگ کو فروغ دینے کے اقدام کرنے، ٹیکس دہندگان اور ملک کے لئے دولت پیدا کرنے والی صنعتی دنیا پر بھروسہ کرنے اور ٹیکس ، دہشت گردی او ر خوف کا ماحول نہ پیدا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو کیش لیس کو اپنانے میں وقت لگے گا۔

نوٹ بندی سے متاثر معیشت کو پٹری پر لوٹنے میں لگے گا ایک سال

file photo

جب تک وہ اس کے عادی نہیں ہوجاتے تب تک حالات سے ہوشیاری سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی منشا اچھی ہے لیکن اسے عام لوگوں کے خرچ یا چیزوں کے استعمال کو محدود کرنے والے اقدام سے گریز کرنا چاہیے۔ مسٹر ججوڈیہ نے کہا کہ تین لاکھ روپے سے زیادہ کی نقد خرید پر لین دین کے وقت ہی ٹیکس لگانے کی تجویز پر سرکار کو پھر سے غور کرنا چاہیے۔ ایسے ایماندار ٹیکس دہندگان کو اور صنعتی دنیا کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے ان کی عزت کرنا چاہیے اور ٹیکس کی آمدنی بڑھانے کے لئے ٹیکس کے دائرے میں زیادہ لوگوں کو لانا چاہیے۔ ابھی صرف 1.8 فیصد لوگ ہی ٹیکس جمع کراتے ہیں جو حیرت انگیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد جیسے جیسے ہم ’’لنگڑاتے ہوئے ‘‘معاشی ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں ،معیشت میں پوری رفتار سے نقدی فراہم کرنا ترجیح ہونا چاہیے۔ ایسوچیم کے سربراہ نے کہا کہ جب تک معیشت میں نقدی نہیں آئے گی اشیا کا استعمال نہیں بڑھے گا۔ اگر سازو سامان کا استعمال اور ان کی مانگ کم رہے گی تو روزگار بھی پیدا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ملک میں روز گار کے بغیر بھی ترقی ہوتی رہی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی نوجوان ہے اور ان کی آرزوں کو پورا کرنے کے لئے صنعتی دنیا کو بڑھاوا دینا ضروری ہے جو ان نوجوانوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ ملک میں جس تیزی سے منصوبوں اور اسکیموں کا اعلان ہوتا ہے اتنی ہی تیزی سے انہیں نافذ بھی کیا جانا چاہیے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسکل انڈیا اچھی پہل ہے لیکن ان اسکیموں پر عمل در آمد میں روز گار پیدا کرنے کا مقصد بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر قرض نہ چکانے والوں اور کاروبار میں نقصان کی وجہ سے ایسا نہ کرپانے والوں میں فرق کیا جانا چاہیے۔

زمین جائیداد کے سیکٹر کو پٹری پر لانے کے اقدام کرنے پر بھی ججوڈیہ نے زور دیا حالانکہ ساتھ ہی جائیداد کو باضابطہ بنانے کے قانون کی حمایت بھی کی اور کہا کہ اس سے لوگوں کو پیسہ لے کر غیر اخلاقی طور پر آٹھ دس سال تک انکے مکانوں کی ڈیلوری رکوانے پر بلڈروں پر نکیل کسے گی۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں روز گار پیدا کرنے کے کافی مواقع ہیں اور سرکار کو اس زمرے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز