جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی اوراین سی پی یو ایل کے اشتراک سے نصاب کی تجدید کاری پر ورکشاپ

Mar 03, 2017 09:47 PM IST | Updated on: Mar 03, 2017 09:47 PM IST

نئی دہلی : شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے نصاب کی اصلاح و ترمیم اور اسے عصری مطالبات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے سہ روزہ ورکشاپ کا اختتامی سیشن جامعہ کے ٹیگور ہال میں منعقد ہوا۔ اس سیشن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹرپروفیسر ارتضی کریم مہمان خصوصی کی حیثیت نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے کنوینر ڈاکٹر فوزان احمد نے ارتضی کریم کا استقبال کیا ۔ شعبہ عربی کے استاذ ڈاکٹر نسیم اختر ندوی نے ورکشاپ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اہم تجاویز کا ذکر کیا۔

قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے اپنے خطاب کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ کسی بھی مضمون کی کامیابی اس پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کے نصاب کا وقفہ وقفہ سے جائزہ لیا جاتا رہے تاکہ زمانے کے ساتھ اسے ہم آہنگ رکھا جاسکے، اس لئے شعبۂ عربی کا یہ قدم قابل تحسین ہے اور شعبہ عربی قابل مبارک باد ہے۔ تاہم نصاب کی اصلاح وترمیم کی کوشش کے سلسلے میں اس ورکشاپ کا انعقاد پہلا قدم ہے ابھی اور بھی کوشش باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں تدریسی ملازمتوں کے مواقع محدود ہیں ۔تاہم عربی زبان میں ترجمہ کے مواقع بہت ہیں ،جس میں بہتر ملازمتیں حاصل کی جاسکتی ہیں، اس لئے ترجمہ اور تکلم کی بہتر تدریس پر توجہ دی جانی چاہیے۔ شعبۂ عربی کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا چونکہ علوم و فنون اب ایک دوسرے کے ساتھ کافی مربوط ہوگئے ہیں اس لئے میرے خیال میںطالب علم کی سہولت کے لئے اردو اور ہندی ادب کی مختصر تاریخ کو بھی شامل نصاب کیا جا سکتا ہے ، انھوں نے شعبہ عربی کے سامنے ایک تجویز رکھتے ہوئے کہا کہ اگر شعبۂ عربی نصاب کی کوئی کتاب تیار کرتا ہے تو قومی کونسل اسے شائع کرے گی ، انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ورکشاپ تواتر سے ہونی چاہیئے اور قومی کونسل اپنے ضابطوں کے تحت تعاون کرتی رہے گی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی اوراین سی پی یو ایل کے اشتراک سے نصاب کی تجدید کاری پر ورکشاپ

تین روز تک جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں ،عربی زبان کے نصاب کی خوبیوں اور خامیوں پر غور کیاگیا اور اصلاح کی تجاویز پیش کی گئیں ، اس ورکشاپ میں افتتاحی سیشن کے علاوہ ایک سیشن نصاب پر لکچرس کے لئے مخصوص تھا جس میں دو لکچرس ہوئے اس کے علاوہ چھ ٹیکنیکل سیشن ہوئے جن میں ترجمہ نگاری ، عربی زبان و قواعد ، عربی ادب اور اس کی تاریخ، لسانیات اور تنقید، عربی بول چال اور مضمون نگاری ، عربی بلاغت اورعروض کے نصاب پر گفتگو کی گئی اور مختلف تجاویز کی روشنی میں نصاب کا جدید خاکہ تیار کیا گیا ۔ اس ورک شاپ کا اختتام شعبۂ عربی کے استاذ ڈاکٹر صہیب عالم صاحب نے شکریہ کلمات ادا کئے۔

نصاب کی اصلاح و ترمیم کی اس ورک شاپ میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پروفیسر اسلم اصلاحی ، پروفیسر مجیب الرحمن ، پروفیسر عبید الرحمن صدیقی ، پروفیسر رضوان الرحمن دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر ولی اختر ندوی ،ڈاکٹر نعیم الحسن اثری ، پروفیسر حسنین اختر ، اینگلو عربک کالج سے پروفیسر اسلام الدین سابق پرنسپل اور موجودہ وائس پرنسپل اینگلو عربک کالج،ڈاکٹر محمد سلام اسرائیلی ، برکۃ اللہ یونیورسٹی بھوپال سے پروفیسر حسان خان صاحب ، بنارس ہندو یونیورسٹی سے پروفیسر اشفاق احمد ، جامعہ کے انڈو عرب کلچر سینٹر سے ڈاکٹر آفتاب عالم، ایفلو یونیورسٹی حیدر آباد سے پروفیسر مظفر عالم ، اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی سے ڈاکٹر سلیم احمد ، شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر شفیق احمد خان صاحب ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف شعبوں کے اساتذہ ،طلبہ ، ریسرچ اسکالرس آج کے پروگرام میں شرکت کی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز