ہڑتال میں نرمی سے نئے سال پر وادی میں لوٹی رونق، بازاروں اور سیاحتی مقامات پر نظر آئی بھیڑ

Jan 01, 2017 07:56 PM IST | Updated on: Jan 01, 2017 07:56 PM IST

سری نگر : کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتال میں آج سے شروع پانچ دن کی نرمی کے درمیان نئے سال کے پہلے دن وادی کے بازاروں اور سیاحتی مقامات پر رونق رہی۔ وادی میں گزشتہ سال 9 جولائی سے شروع ہونے والے تشدد کے درمیان یہ مسلسل تیسرا ہفتہ ہے ،جب علیحدگی پسندوں نے اتوار سے پانچ دن کے لئے هڑتان میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے ہفتے کے پانچ دن ہڑتال کے بعد صرف اواخر ہفتہ پر نرمی دی جاتی تھی۔

جمعہ اور ہفتہ کو ہڑتال کے درمیان معمول کی زندگی متاثر رہی۔تاہم آج نئے سال میں ہڑتال میں ڈھیل شروع ہوتے ہی بازاروں میں خریدار اور سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی گہما گہمی شروع ہو گئی۔ سری نگر کے مشہور سنڈے مارکیٹ میں کافی تعداد میں لوگ خریداری کرتے دیکھے گئے۔ گلمرگ کے اسکی ریزورٹ، پہلگام كوكرناگ اور سون مرگ جیسے صحتی فوائد کے ریزورٹس میں بھی نئے سال منانے کے لئے بڑی تعداد میں مقامی لوگ ا ٓئے۔ سڑکوں پر بڑی تعداد میں گاڑیوں کے نکلنے سے ٹریفک پولیس کو بھی کافی مشقت کرنی پڑی۔

ہڑتال میں نرمی سے نئے سال پر وادی میں لوٹی رونق، بازاروں اور سیاحتی مقامات پر نظر آئی بھیڑ

تاریخی جامع مسجد کے تمام دروازے کھول دیے گئے عام لوگوں کو مسجد کے احاطے کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ جامعہ مارکیٹ میں بھی گراہکوں کی بھاری بھیڑ دیکھی گئی۔ دونوں علیحدگی پسند گروپ حريت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جےكےایل ایف ) نے جنوری کے پہلے پکھواڑے کے لئے جاری ہڑتال کیلنڈر میں ہفتے میں صرف دو دن (جمعہ اور ہفتہ) کو ہڑتال کا پروگرام رکھا ہے۔

جےكےایل ایف کے سربراہ یاسین ملک کا گڑھ مانے جانے والے میسوما کو جانے والی سڑکوں پر گاڑیوں اور پیدل مسافروں کی کافی چہل پہل دیکھی گئی۔میسوما میں دکانیں اور کاروباری ادارے آج صبح سے ہی کھلے رہے۔ مسٹر ملک کو ہفتہ کو ہی سول لائنس واقع سنٹرل جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ سرینگر کے تاریخی لال چوک کے آس پاس بھی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ سول لائنس کے اہم تجارتی مراکز میں بھی زیادہ تر دکانیں کھلی رہیں اور کام کاج معمول پر رہا۔ کڑاکے کی سردی کی وجہ سے ریستورانو اور کیفے میں گراہکوں کی بھیڑ رہی۔سڑک کنارے کی چائے کی دکانوں پر بھی بڑی تعداد میں لوگ نظر آئے۔

sri nagar new year (1)

دریں اثنا اننت ناگ، پلوامہ، کولگام، اونتي پورا اور پمپور سمیت پورے جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی ادارے کھلے رہے۔ یہاں بھی سڑکوں پر گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ شمالی کشمیر کے باندي پورا، بارہمولہ، اجس،پاٹن اور پلهالن میں بھی معمولات زندگی معمول رہی۔ تاہم، سرحدی ضلع کپوارہ کے هندواڑا میں کل ہوئے ایک حملے میں ایک پولیس اہلکار کی موت کے بعد وہاں تلاشی مہم جاری رہنے سے حالات کشیدہ رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز