نیوز 18 انڈیا کا آپریشن "شہید "، پڑھیں آخر صرف سی آر پی ایف جوان ہی کیوں بنتے ہیں نکسلیوں کا نشانہ

May 25, 2017 11:29 PM IST | Updated on: May 25, 2017 11:38 PM IST

نئی دہلی : چھتیس گڑھ میں نکسلی حملوں میں سکیورٹی فورسز کو ہو رہے بڑے نقصان کی ایک بڑی وجہ پولیس اور سی آر پی ایف کے درمیان باہمی تال میل اور تعاون کی کمی ہے۔ نیوز 18 انڈیا کے اسٹنگ 'آپریشن شہید میں یہ انکشاف ہوا ہے۔یہ انکشاف چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقوں سے جڑاہے۔ یہاں پانچ سال میں سیکورٹی فورسز کے 263 جوان شہید ہو چکے ہیں۔ اس اسٹنگ کے ذریعہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی ہےکہ کیوں نکسل متاثرہ علاقوں میں سی آر پی ایف کے شہیدوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

اس انکشاف کو ملک کے سامنے لانے کے لئے نیوز 18 انڈیا کی انڈركور ٹیم نے سی آر پی ایف اور چھتیس گڑھ پولیس کے کئی بڑے افسران کے اسٹنگ آپریشن کئے۔ اس میں کئی ایسی باتیں سامنے آئی ہیں ، جو چونکانے والی ہیں۔ اس میں سامنے آیا ہے کہ ان علاقوں میں کام کرنے والی دو ایجنسیاں یعنی مقامی پولیس اور سی آر پی ایف ایک ساتھ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔

نیوز 18 انڈیا کا آپریشن

file photo

اسٹنگ آپریشن کے تحت انڈركور ٹیم سب سے پہلے سکما کے چتاگپھا علاقہ میں تعینات سی آر پی ایف کی کوبرا بٹالین کے کیمپ پہنچی۔ اس جگہ سے 10 منٹ کے فاصلہ پر ہی وہ مقام ہے ، جہاں 24 اپریل کو نکسلیوں نے حملہ کیا تھا۔ یہاں اسسٹنٹ کمانڈنٹ آر آر جھا اور ڈپٹی کمانڈنٹ امت شرما سے پوچھا گیا کہ حملوں کے شکار سی آر پی ایف کے جوان ہی کیوں ہوتے ہیں۔

ڈپٹی کمانڈنٹ نے بتایا کہ 'ناراضگی اسی بات کی ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ سی آر پی ایف ہی کیوں نشانہ بن رہے ہیں ۔سی آر پی ایف کی ٹریننگ کمزور ہے، لیکن سی آر پی ایف ہی باہر نکل رہی ہے ، تو اسے ہی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ روڈ بنوانے کیلئے سی آر پی ایف کے جوان باہر نکل رہے ہیں، بجلی کھمبے لگانے کیلئے سی آر پی ایف کے جوان باہر نکل رہے ہیں ، ہم سول پولیس کی مدد کے لئے آئے ہیں اور ہمیں فرنٹ پر کھڑا کر دیا گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہمارے پاس ایسا ذریعہ بھی نہیں ہے کہ ہم اس گاؤں میں چلے جائیں تو کسی کو شناخت کرلیں کہ کون نکسلی ہے اور کون نہیں۔ ہمارے سامنے سے کتنی مرتبہ وہ نکل جاتے ہیںاورہم پہچانتے ہی نہیں۔ تھوڑی سی کوآرڈینیشن میں گڑبڑ ی ہوئی ہے، اصلاح ضروری ہے۔ڈپٹی کمانڈنٹ نے شکایتی لہجہ میں کہا کہ 'پولیس تھانے یہاں صرف نام کے لئے ہے ۔ یہ تھانہ ہے اس میں 7-8 بندے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ چلنا ہے تو 1-2 ٹوٹا پھوٹا سپاہی دے دیتے ہیں۔ ' اسسٹنٹ کمانڈنٹ آر آر جھا نے بتایا کہ پولیس صرف خانہ پری کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'جب ہم کیمپ سے نکلتے ہیں تو ایک اسسٹنٹ کانسٹیبل کو بھیج دیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمانڈنٹ شرما نے بتایا کہ 'ایک کمپنی کے ساتھ ایک سپاہی دے دیتے ہیں، وہ درمیان میں چلتا ہے اس کا کوئی کام نہیں ہوتا، وہ پولیس کا نمائندہ ہوتا ہے۔

ڈپٹی کمانڈنٹ شرما کا کہنا ہے کہ پولیس کا جب تک بڑا رول نہیں ہوگا ، اس وقت تک چیزیں بہتر نہیں ہوں گی ۔ پولیس کے ليڈنگ رول کے ساتھ حکومت کو پالیسی بھی بدلنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہاں پر بھی خصوصی سیکورٹی آرمس ایکٹ نافذ کرنا پڑے۔ویسے وزارت داخلہ کی ہدایت ہے کہ سی آر پی ایف کی بٹالین کیمپ سے نکلے تو مقامی پولیس کا ایک تہائی نوجوان ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز