نیوز 18 انڈیا کا اسٹنگ آپریشن : یوپی کے پولیس تھانوں میں جاری غیر قانونی وصولی کی سیاہ داستان !۔

Apr 02, 2017 10:21 AM IST | Updated on: Apr 02, 2017 10:35 AM IST

نئی دہلی : نیوز 18 انڈیا نے اپنے خفیہ کیمرے میں یوپی کے تھانوں میں ہو رہی غیر قانونی وصولی کی کہانی کو قید کیا ہے۔ ہم آپ کو دکھائیں گے کس طرح یوپی کے تھانوں میں پولیس غیر قانونی وصولی کرتی تھی اور اس کی وصولی کی رقم کہاں تک پہنچتی تھی۔ یوگی حکومت بننے کے بعد کس طرح ملزم سپاہیوں پر کارروائی ہوئی، لیکن اسی غیر قانونی وصولی کے ذریعے موٹی رقم ہضم کرجانے والے افسران کس طرح صاف طور پر بچ کر نکل گئے۔

سڑک کنارے لگنے والی دکانوں، ریہڑی پٹریوں سے غیر قانونی وصولی کا پولیس کا پرانا ناطہ ہے۔ اس کی شکایت پہلے بھی ریاست کے پرو وزیر اعلی سے لے کر ضلع کے ایس ایس پی تک سے کی جا چکی ہے، لیکن کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اقتدار تبدیلی کے بعد اس سمت میں کچھ کارروائی ہوتی نظر آرہی ہے ، مگر وہ بھی کافی نہیں ہے۔یوں تو وصولی کا پیسہ تھانہ انچارج سے لے کر ایس ایس پی تک پہنچتا ہے، لیکن اپنی گردن بچانے کے لئے حکام نے سپاہیوں کو بلی کا بکرا بنا دیا ہے۔

نیوز 18 انڈیا کی ٹیم گریٹر نوئیڈا پہنچی اور ایک ایسے کانسٹیبل سے ملاقات کی ، جو غیر قانونی وصولی کے الزام میں لائن حاضر ہے۔ ظاہر ہے پچھلی حکومت میں ہر تھانے کا ایک ٹھیکیدار تعینات ہوتا تھا، وہی رقم وصول کرتا تھا اور یہ رقم اوپر تک تقسیم جاتی تھی۔ یوگی حکومت آنے کے بعد صرف رقم وصول کرنے والے زیادہ تر سپاہی ہی معطل کئے گئے ہیں ۔ ایسے ہی دو سپاہیوں سے نیوز 18 انڈیا کی ٹیم نے رابطہ کیا ، جنہوں نے ٹھیکیدار کا مطلب بھی سمجھایا اور حکام کی ملی بھگت کا بھی پردہ فاش کیا۔

لائن حاضر کئے گئے ان دونوں کانسٹیبل کے نام ہیں عابد اور گوتم۔ عابد نالج پارک تھانہ، گریٹر نوئیڈا میں تعینات تھے اور گوتم ایکو ٹیک تھانہ گریٹر نوئیڈا میں۔ فی الحال دونوں لائن حاضر ہیں۔ ان دونوں کانسٹیبل کے ساتھ نیوز 18 انڈیا کی ٹیم نے علاقہ میں ایک دکان شروع کرنے کے بہانے پٹری والا بن کر بات چیت شروع کی۔ آہستہ آہستہ بات اس موڑ پر آ پہنچی ، جہاں سے غیر قانونی وصولی کا دھندہ اور حکام کی ملی بھگت اجاگر ہونے لگی۔

سپاہی کی رپورٹر سے بات چیت:

رپورٹر: سر ایک بات بتائیے چار دن پہلے ہم نے اخبار میں خبر دیکھا تھا کہ 45-50 سپاہی معطل کر دیے گئے۔

سپاہی: غازی آباد میں 45 کئے گئے تھے۔

رپورٹر: نوئیڈا میں بھی کئے گئے تھے نا؟

سپاہی: یہاں 13 کئے گئے تھے۔

رپورٹر: کیوں معطل کئے تھے؟

سپاہی: یہ تمام معلومات ان کے پاس ہے۔

رپورٹر: نہیں بتا رہے ہیں یہ مجھے ... اب اچانک بات ہوئی۔ یہ بتائیے جو بھی مارکیٹ سے پیسہ اٹھتاہے ہم پٹری والے جو پیسہ دیتے ہیں ....

سپاہی: سب کو معلوم ہے، سب کی اسٹیک ہے۔

رپورٹر: افسران بھی تو لیتے ہوں گے؟

سپاہی: سب کو جاتا ہے ... ایک آدھ جگہ نہیں ، سب کو (حکام کو) جاتا ہے۔

رپورٹر: تو پھر سپاہی کو کیوں معطل کیا گیا۔

سپاہی: جیسا آپ کہہ رہے ہیں تکلیف، ہم تو کہہ بھی نہیں پا رہے ہیں، آپ تو کہہ بھی رہے ہیں، ہم تو بھگت رہے ہیں، ہم لوگ کہہ نہیں سکتے اس بات کو، کہیں گے تو اس سے بھی بڑی سزا مل جائے گی، یہ ہے غیر قانونی وصولی کا ان دیکھا سچ ہے ، جو اب جا کر اجاگر ہوا ہے۔ وصولی سے جٹائی گئی رقم پولیس کے اعلی حکام تک پہنچتی ہے، لیکن کارروائی کے نام پر صرف سپاہیوں کو سزا دے دی جاتی ہے۔

رپورٹر: فرض کیجئے ایک تھانہ ہے اور تھانے میں 2 لاکھ روپے کی وصولی آ رہی ہے ، تو 2 لاکھ روپے بیٹ کانسٹیبل یا سپاہی اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے۔

سپاہی: 2 میں سے ایک نوے انسپکٹر کو دیتا ہے۔

رپورٹر: انسپکٹر مطلب کہ تھانہ؟

سپاہی: جو اسے کلوز کرتا هے10-15 اسے ملتا ہے۔

رپورٹر: جیسے آپ لوگ کلوز ؟ کلوز کا مطلب جو اسے وصول کررہا ہے؟

سپاہی: ہاں ہاں ..

رپورٹر: وہ آپ کو 10-12 ملے گا۔

سپاہی: 10-12-15 تک ختم ہو ہماری۔ ایک اسی اسے ملے گا۔

رپورٹر: انسپکٹر کو! انسپکٹر اوپر بھی دیتا ہے؟

سپاہی: وہ اس کو پتہ ہوگا،

رپورٹر: یہ تو عجیب بات ہے پھر ان کو کیوں بلی کا بکرا بنایا گیا۔

سپاہی: یہی تو دکھ ہو رہا ہے نا۔ یہی تو میرا ملک بہت اچھا ہے، سو میں 99 بے ایمان ہیں۔

رپورٹر: تو آپ لوگ آواز نہیں اٹھا رہے ہیں؟

سپاہی: پولیس میں نہیں اٹھا سکتے نا، پولیس میں یونین نہیں ہے۔

ان سپاہیوں نے صاف کر دیا کہ افسران کے خلاف یہ آواز نہیں اٹھا سکتے، لیکن غیر قانونی وصولی کی ملائی کھانے والے اصل افسران ہیں اور اس سیاہ دھندے میں سب سے زیادہ فائدہ انہی کو ہوتا ہے۔

ہم نے ان دونوں کانسٹیبل سے ٹھیکیدار کے کردار کے بارے میں بھی پوچھا:

رپورٹر: یہ جو لفظ سنا ٹھیکیدار، یہ کیا ہوتا ہے؟

سپاہی: یہ بتائیں گے ... انہیں سب پتہ ہے، جو پیسہ کلوز کرتا ہے اسے ہی ٹھیکیدار کہتے ہیں۔

رپورٹر: کلوز کا مطلب؟

سپاہی: جو افسر کو لے جاکر دیتا ہے، جیسے آپ ٹھیلا لگائیں گے ، تو وہی آپ سے لے گا اور وہی اوپر لے جا کر دے گا۔

رپورٹر: اچھا وہی لے گا اور وہی اوپر لے جاکر افسران کو دے گا؟

سپاہی: ہاں۔

تو غیر قانونی وصولی کی اصلی جڑ ہر تھانے میں بیٹھا ایک ٹھیکیدارہے ، جو اپنے علاقہ کے تمام ریہڑی پٹری، چھوٹے موٹے کاروباری اور غیر قانونی کام کرنے والوں کو پناہ دیتا ہے، ان کو بچاتا ہے اور اس کے بدلے ان سے وصولی کرتا ہے، لیکن اس ٹھیکیدار کے اوپر کی ایک اصلی کڑی ہے، وہی غیر قانونی وصولی کے اس دھندے کی پرورش کرتا ہے اور وصولی کی اس رقم کو اوپر تک پہنچاتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز