نیشنل گرین ٹربیونل نے ان شرائط کے ساتھ طاق۔ جفت اسکیم کو منظوری دی

Nov 11, 2017 02:31 PM IST | Updated on: Nov 11, 2017 03:29 PM IST

نئی دہلی۔ نیشنل گرین ٹربیونل(این جی ٹی) نے دہلی حکومت کے طاق -جفت منصوبے پر کئی سوال کھڑے کرنے کے بعد اسے آج کچھ شرائط کے ساتھ منظوری دے دی۔ پیر سے پانچ دن کے لئے نافذ کئے جانے والے منصوبے کے تحٹ اس بار دوپہیہ گاڑیوں اور خواتین اور سرکاری ملازمین کی گاڑیوں کو بھی کسی قسم کی راحت نہیں ہوگی اور انہیں بھی اس پر پوری طرح عمل کرنا ہوگا۔ ٹربیونل کے جسٹس سوتنترکمار نے خصوصی سماعت کے دوران دھونیں سے دہلی کے لوگوں کو نجات دلانے کےلئے لائے جارہے اس منصوبے پر کہا کہ امکان کے مطابق اگر اگلے 48گھنٹوں میں بارش نہیں ہوتی ہے تو کسی بھی ذریعہ سے پانی کے چھڑکاؤ کا انتظام کرنا ہوگا۔ این جی ٹی نے ایمبولینس اور ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کو اس منصوبے سےراحت دی ہے۔

طاق-جفت میں اس بار کئی گاڑیوں کو پہلے ملنے والی راحت ختم کئے جانےسے شروع ہونے والے اس منصوبے کے سلسلے میں سڑکوں پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بن گیا ہے۔ دارالحکومت میں 66لاکھ دوپہیہ گاڑیاں ہیں اور این جی ٹی کے فیصلے سے 33لاکھ گاڑیاں سڑک پر نہیں اتر سکیں گی۔قریب 32لاکھ کاروں میں سے 16لاکھ کاریں بھی سڑکوں پر نہیں اتر پائیں گی۔ دہلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے طورپر میٹرو ریل سروس اور دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی سہولت ہے جو آبادی کے پیش نظر پہلے ہی ناکافی ہے۔ ایسے میں ٹربیونل کے اس فیصلے سے 13نومبر کو سڑکوں پر گاڑیاں کم چلیں گی لیکن پبلک ٹرانسپورٹ پر دباؤضرورت سے زیادہ بن جائے گا حالانکہ حکومت نے پانچ دن کے منصوبے کے دوران ڈی ٹی سی اور اس کے تحت چلنے والی کلسٹر بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کرائی ہے۔

نیشنل گرین ٹربیونل نے ان شرائط کے ساتھ طاق۔ جفت اسکیم کو منظوری دی

مستقبل کے لئے ٹربیونل نے کہا ہے کہ 48گھنٹے تک نگرانی رکھنے کے دوران اگرپی ایم 2.5اور پی ایم .10کی سطح 300یا 500سے اوپر رہےگی تو یہ منصوبہ خود نافذہوگا۔سماعت کے دوران این جی ٹی نے منصوبے کے سلسلے میں اپنی امیدوں پ رہلی حکومت سے کئی سوال پوچھے۔ٹربیونل کا کہنا تھا کہ جب پہلے ہوا کا معیار خراب تھا اس وقت حکومت نے اس منصوبے کو کیوں نافذ نہیں کیا۔ این جی ٹی نے دہلی حکومت سے خط کو بھی دکھانے کا حکم دیا جس کی بنیاد پر اس منصوبے پرفیصلہ کیا تھا۔ٹربیونل نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس منصوبے کے لئے لیفٹنٹ گورنر کی منظوری بھی لی گئی ہے۔سماعت کے دوراں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)نے پیش رپورٹ میں کہا ہے کہ چار پہیا گاڑیوں کے مقابلے دوپہیا سے زیادہ آلودگی ہوتی ہے۔بورڈکا کہناتھا کہ کل آلودگی کی مقدار میں 20فیصد حصہ تو صرف دپہیا گاڑیوں کا ہے۔

ٹربیونل نے اترپردیش حکومت سے بھی معلومات چاہی ہے کہ نوئیڈٓ اور گریٹر نوئیڈا میں ماحولیات کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے کتنے لوگوں کے چالان کاٹے گئے۔آلودگی کو قابوکرنے کےلئے دہلی حکومت طاق-جفت منصوبہ تیسری بار لارہی ہے۔اس سے پہلے گزشتہ سال یکم جنوری سے 15جنوری اور 15اپریل سے 30اپریل تک اس منصوبے کو لایا گیا تھا۔

ٹربیونل نے کہا کہ آلودگی کو قابو کرنے کےلئے مختلف ایجنسیوں میں تال میل نہیں ہے۔ این جی ٹی نے ہدایت دی ہے کہ ٹریفک پولیس کو ٹریفک سگنل پر تعینات کیا جائے جو یہ اندازہ کریں کہ ڈیزل کی 10سال اور پٹرول کی 15سال پرانی کتنی گاڑیوں سڑکوں پر ہیں۔ جسٹس کمار نے دہلی حکومت سے سوال کیا کہ جب آلودگی اپنی سب سے اونچی سطح پر تھی تو دس دن پہلے اس منصوبے کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا۔ بورڈ نے سماعت کے دوران کہا کہ دہلی حکومت کو زبانی طورپر اس کی وارننگ دی گئی تھی لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ٹربیونل نے کہا کہ لوگوں کے صبر کا امتحان نہیں لیاجانا چاہئے۔ اعداد و شمار کے مطابق بارش نہ ہونے پر آلودگی کی سطح بڑھ رہی ہے تو اس سمت میں قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

کل سماعت کے دوران این جی ٹی نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ دوپہیہ گاڑیاں ،خواتین ڈرائیور اور دیگر کو راحت کیوں دی گئی جبکہ مطالعے کے مطابق 46فیصد آلودگی تو صرف دوپہیہ گاڑیوں سے ہی ہوتی ہے۔ گزشتہ احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا ۔حکومت  کی طرف سے پیش وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کردہ آلودگی تحفظ اور کنٹرول اتھارٹی (ای پی سی اے)کی ہدایات کے مطابق منصوبے کو نافذ کیا جارہا ہے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران ٹربیونل نے کہا کہ 100تجاویز دی گئیں لیکن پکنک کے طورپر طاق اور جفت کو نافذ تو کردیا گیا جبکہ باقی پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ ٹربیونل نے معاملے کی اگلی سماعت 14نومبر کو طے کرتے ہوئے دہلی حکومت سے پارکنگ فیس چار گنا کرنے کے فیصلے پر غور کرنے کو کہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز