این آئی اے نے سید صلاح الدین کے بیٹے کو کیا گرفتار، ٹیرر فنڈنگ کا الزام

سری نگر۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کے روز پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں قائم متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کو حراست میں لے لیا۔

Oct 24, 2017 04:03 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 04:04 PM IST

سری نگر۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کے روز پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں قائم متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے نے شاہد یوسف کو 2011 ء کے ایک فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایجنسی کے نئی دہلی ہیڈکوارٹر میں طلب کیا تھا جہاں اسے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کیس حزب المجاہدین کی فنڈنگ سے متعلق ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شاہد یوسف کے والد سید صلاح الدین متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین ہونے کے علاوہ کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کا سپریم کمانڈر بھی ہے۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کا رہنے والا سید صلاح الدین انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر منتقل ہوا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کی جانب سے نئی دہلی ہیڈکوارٹر پر حراست میں لئے گئے شاہد یوسف جموں وکشمیر حکومت کے محکمہ باغبانی میں ملازم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجیت سنگھ کی جانب سے شاہد یوسف کے نام جاری سمن میں کہا گیا تھا ’آپ کو (2011 ء کے کیس کے سلسلے) میں بعض سوالوں کے جواب کے لئے طلب کیا جارہا ہے‘۔

ذرائع نے بتایا کہ شاہد کو سمن میں 16 اکتوبر کو سری نگر اور بعدازاں 24 اکتوبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے سامنے حاضر ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شاہد کو نئی دہلی ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے سے قبل سری نگر کے مضافاتی علاقہ ہمہامہ میں واقع این آئی اے کے دفتر پر چار مرتبہ حاضر ہونا پڑا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر میں پوچھ گچھ کے دوران این آئی اے اہلکاروں نے شاہد یوسف کا موبائیل فون اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور اسے اپنے کنبے سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ این آئی اے پہلے ہی متعدد علیحدگی پسند لیڈران، دو مبینہ سنگبازوں اور ایک کشمیری تاجر کی گرفتاری عمل میں لاچکی ہے۔ این آئی اے نے 5 ستمبر کو جنوبی کشمیر میں دو مبینہ سنگبازوں کو گرفتار کیا۔ انہیں مبینہ طور پر سنگ بازی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے 6 اور 7 ستمبر کوکشمیر، جموں، نئی دہلی، ہریانہ اور پنجاب میں کم از کم تین درجن مقامات پر چھاپے مار کر تلاشیاں لیں۔ یہ چھاپے علیحدگی پسند راہنماؤں اور تجارت پیشہ افراد کے گھروں اور دفاتر پر ڈالے گئے تھے۔

این آئی اے نے سید صلاح الدین کے بیٹے کو کیا گرفتار، ٹیرر فنڈنگ کا الزام

سید صلاح الدین کی فائل فوٹو۔

این آئی اے نے 24 جولائی کو 7 علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرکے نئی دہلی منتقل کیا جہاں انہیں ریمانڈ پر تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔ ان میں حریت (گ) ترجمان ایاز اکبر، مسٹر گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ عرف الطاف فنتوش ، راجہ معراج الدین کلوال(حریت گ ضلع صدر) ،سینئر حریت گ لیڈر پیر سیف اللہ، حریت کانفرنس (ع) ترجمان شاہد الاسلام، نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے شامل ہیں۔ این آئی اے نے 17 اگست کو کشمیری تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی کو نئی دہلی میں گرفتار کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز