داعش کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے تین افراد کے خلاف الزامات طے

Feb 21, 2017 09:01 PM IST | Updated on: Feb 21, 2017 09:01 PM IST

نئی دہلی۔  خصوصی این آئی اے عدالت نے آج ملک میں داعش (آئی ایس) کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مبینہ طور پر ملوث تین ملزمان کے خلاف الزامات طےکئے ہیں۔ یہ ملزمان گاندیر بل جموں کشمیر کے رہنے والے شیخ اظہر الاسلام (24) کرناٹک کے عدنان حسن (36) اور تھانے مہاراشٹر کے رہنے والے محمد فرحان شیخ (25) ہیں۔ ان تینوں ملزمان پر تعزیرات ہند کی دفعہ بی 120 اور غیر قانونی سرگرمیاں انسدادی قانون کی دفعہ 18-20-38 -39 اور 40 کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے افسران کے مطابق تفتیشی ایجنسی نے پچھلے سال 28 جنوری کو دہلی میں این آئی اے پولیس اسٹیشن میں تینوں کے خلاف ایک کیس درج کیا تھا۔ کیس درج ہونے کے فوراً بعد ابوظہبی سے آمد پر ایجنسی نے ان تینوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

افسر نے کہا کہ عدنان حسن اور محمد فرحان شیخ 2008 سے2012 کے درمیان ملازمت کے سلسلہ میں اکثر متحدہ عرب امارات جاتے رہتے تھے۔ شیخ اظہر الاسلام جولائی 2015 میں ان کے پاس امارات گیا تھا۔ عدنان حسن قبل ازیں انڈین مجاہدین سے وابستہ تھا اور بعد میں اس کا جھکاؤ داعش (آئی ایس) کی طر ف ہوگیا۔ تفتیش کے دوران ہی انکشاف ہوا کہ مذکورہ ملزمان نے اپنے ساتھیوں کی ساز باز سے مجرمانہ سازش رچی تاکہ داعش کے نظریات کی تشہیر کریں، لوگوں کی بھرتی کریں ، چندہ اکٹھا کریں اور بھرتی کئے ہوئے لوگوں کے شام کے سفر کا بندوبست کریں تاکہ وہ داعش میں شامل ہوکر اس کی سرگرمیوں کو فروغ دے سکیں۔ اسی سازش کو آگے بڑھاتے ہوئے ملزمان نے کئی ای میل سے آئی ڈی بنارکھی تھیں اور مختلف ممالک کے اپنے ساتھیوں سے کئی موبائل نمبر حاصل کررکھے تھے ۔ کئی آن لائن فورم اور گروپ بنا رکھے تھے جس کے لئے فیس بک ، واٹس اپ وغیرہ کا استعمال کرتے تھے اور دنیا کے مختلف حصوں کے مختلف ممالک کے رہنے والے یکساں ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو مدعو کرتے تھے۔

داعش کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے تین افراد کے خلاف الزامات طے

افسر نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایک دہشت گرد گروہ تیار کیا تھا اور وہ داعش کے محاذی گروپ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ مختلف لوگوں کو مدعو کرتے، تحریک دیتے اور سہولت دیا کرتے تھے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کو چھوڑ کر شام جاکر داعش میں شامل ہوں اس کی حمایت کریں اور اس کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔ یہ ملزمان مبینہ طور سے داعش (آئی ایس) کی سرگرمیوں کو فروغ دینے، ان کی تشہیر کرنے اور انہیں فروغ دینے کا کام کرتے تھے ۔ وہ رضاکارانہ طور پر داعش کے ممبران کی وکالت کرتے اور انہیں مدد دیتے تھے ۔ وہ لوگوں کو اس تنظیم کا ممبر بننے کے لئے جبری وصولی کرتے تھے ، بھڑکاتے تھے اور اثر ڈالتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تینوں ملزمان مشتبہ مواد تقسیم کرنے کا کام بھی کرتے تھے۔ وہ اپنے خیالات، ویڈیو، تصاویر اور مواد شیئر کرتے تھے او ر داعش کی حرکتوں کی کھلے عام تصدیق کرکے انہیں نہ صرف حق بجانب قرار دیتے تھے بلکہ انہیں بہت شاندار طریقہ سے پیش کرتے تھے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز