کشمیر میں حریت لیڈر میرواعظ کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کو این آئی اے کا نوٹس

وادی کشمیر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کی سرپرستی میں چلنے والے دینی، تعلیمی اور فلاحی اداروں کے ذمہ داران کو نوٹسیں جاری کردی ہیں۔

Jul 23, 2017 04:58 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 04:58 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کی سرپرستی میں چلنے والے دینی، تعلیمی اور فلاحی اداروں کے ذمہ داران کو نوٹسیں جاری کردی ہیں۔ حریت کے ایک ترجمان نے اتوار کو یہاں بتایا ’انجمن اوقاف جامع مسجدسری نگر ، انجمن نصرۃ الاسلام سری نگر اور دارالخیر میرواعظ منزل سری نگر کے ذمہ داروں کو تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے نوٹسیں جاری کی گئی ہیں چنانچہ گزشتہ کئی دنوں سے این آئی اے کے ہمہامہ سری نگر آفس میں ان اداروں کے عہدیداروں کو تفتیش کے لئے بلایا گیا جہاں انہیں ذاتی حیثیت سے اور ان اداروں کے تعلق سے پوچھ گچھ کی گئی اور انہیں ان اداروں کے حوالے سے دستاویزات اور ریکارڈس لانے کو کہا گیا‘ ۔

ترجمان نے بتایا کہ این آئی اے کی جانب سے مذکورہ اداروں کے نام نوٹس جاری کرنے کے تناظر میں ان تینوں اداروں کے سربراہ میرواعظ مولوی محمد عمرفاروق نے دوران خانہ نظر بندی اپنی رہائش گاہ پر جملہ عہدیداروں اور اراکین کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ میٹنگ میں ممبران نے بہ یک زبان حکومت کی جانب سے ان خالص دینی ، تعلیمی ، ملی اور فلاحی اداروں جو صدیوں سے بلا امتیاز قوم و ملت کی بے لوث خدمات میں لگے ہیں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کو انتہائی قابل حیرت اور قابل تشویش قرار دیا۔

کشمیر میں حریت لیڈر میرواعظ کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کو این آئی اے کا نوٹس

ممبران نے یہ بات واضح کی کہ یہ اسی ادارے کی دین ہے کہ آج سے سو سال قبل جب کشمیری عوام تعلیم کے نور سے محروم تھے تو اسی ادارے کی بدولت عوام نہ صرف تعلیم کے نور سے منور ہوئے بلکہ زندگی کے ہر محاذ پر زبردست پیش قدمی کرکے د بلا امتیازسماج کو ڈاکٹرس، انجینئرس، علماء، ائمہ اور نامور سیاستدان عطا کئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست کی موجودہ وزیراعلیٰ کے مرحوم والد مفتی محمد سعید بھی اسی ادارہ کے پروردہ اور فیض یافتہ رہے ہیں ۔

میٹنگ میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ اس طرح کے حربوں کا واحد مقصد ان اداروں کے سربراہ میرواعظ اور ان کے افراد خانہ کو تنگ طلب کرنے کے پیچھے حکومت کے اپنے سیاسی اغراض ہیں اور میرواعظ کو دیرینہ مسئلہ کشمیر کے تعلق سے اپنے اصولی موقف اور سیاسی نظریات سے دستبردار کرانا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ ترجمان کے مطابق میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ ان اداروں کے قانونی مشیرکے مشورے کے مطابق اگر این آئی اے کے ذمہ داروں کو ان اداروں کے تئیں مزید کوئی معلومات درکار ہے تو وہ تحریری طور پراس کی اطلاع دے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز