ٹیرر فنڈنگ : این آئی اےکی کشمیر سمیت 10 مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں، ایک چارٹرڈ اکاونٹینٹ اور شیعہ عالم بھی زد میں

Sep 07, 2017 09:46 AM IST | Updated on: Sep 07, 2017 04:53 PM IST

نئی دہلی / سری نگر: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے سرحد پار سے ہورہی فنڈنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم جاری رکھتے ہوئے آج مسلسل دوسرے دن وادی کشمیر میں آٹھ مقامات پر اور گڑگاوں میں ایک ایک جگہوں پر چھاپے مارے ۔ چھاپے علیحدگی پسند راہنماؤں اور تجارت پیشہ افراد کے گھروں اور دفاتر پر ڈالے گئے۔ جمعرات کی صبح چھاپہ مار کاروائیوں کا آغاز وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں سینئر حریت رہنما اور معروف شیعہ عالم آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی رہائش گاہ سے کیا گیا۔

اس کے بعد دوسرے علیحدگی پسند لیڈران بشمول غلام نبی سمجھی (حریت کانفرنس گ) ساکنہ بجبہاڑہ اننت ناگ، شکیل بخشی (جے کے ایل ایف) ساکنہ بمنہ سری نگر اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کے ساتھی ضمیر احمد ساکنہ نوگام سری نگر کے گھروں پر بھی چھاپے ڈالے گئے۔ علیحدگی پسند لیڈران کی رہائش گاہوں کے علاوہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدرپورہ میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں دو تجارت پیشہ افراد کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارےگئے۔

ٹیرر فنڈنگ : این آئی اےکی کشمیر سمیت 10 مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں، ایک چارٹرڈ اکاونٹینٹ اور شیعہ عالم بھی زد میں

خیال رہے تفتیشی ایجنسی نے بدھ کے روز جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر اور قومی راجدھانی دہلی میں 27 مقامات پر چھاپے مارے اور اس دوران ان مقامات سے قریب 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم کے ساتھ ہی حوالہ کاروبار سے متعلق قابل اعتراض دستاویزات ، کئی لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ہارڈ ڈسک جیسے الیکٹرانک سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کی ایک ٹیم نے جمعرات کی علی الصبح ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ سینئر حریت لیڈر آغا حسن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشیاں شروع کردیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران کسی کو بھی رہائش گاہ سے باہر نکلنے یا اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے اہلکاروں نے آغا حسن کے گھر کی تلاشی لینے سے قبل وہاں موجود تمام افراد کے موبائیل فون چھین لئے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے ٹیم نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی کے بعد کئی دستاویزات اور دوسری چیزیں اپنے قبضے میں لے لیں۔ آغا حسن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کاروائی کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے 9 ستمبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی دھرنا دینے اور گرفتاری پیش کرنے کے اعلان کے محض ایک روز بعد انجام دی گئی۔ جس پریس کانفرنس کے دوران علیحدگی پسند قیادت نے یہ اعلان کیا، اس میں حریت لیڈر آغا حسن بھی موجود تھے۔

شیعہ عالم آغا سید حسن انجمن شرعی شیعان جموں وکشمیر کے صدر ہیں۔ ان کی تنظیم بزرگ علیحدگی پسند راہنما مسٹر گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس سے منسلک ہے۔ این آئی اے نے گذشتہ شام دعویٰ کیا کہ بدھ کو انجام دی گئیں چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران کئی ایسی ڈائریاں، لیجر بک بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں حوالہ کاروبار سے وابستہ کئی لوگوں کے پتے، غیرقانونی طریقے سے سرحد پار کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے بینک کھاتوں اور جموں کشمیر سے وابستہ کچھ بینک کھاتوں کے پاس بک بھی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے کچھ لوگوں کے دورہ کے دستاویزات بھی چھاپہ کے دوران برآمد کئے گئے ۔ این آئی اے کی جانب سے یہ چھاپہ مار کاروائیاں پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ اور علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے این آئی اے کی جانب سے شروع کردہ تحقیقات کے سلسلے میں انجام دی جارہی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی پہلے ہی متعدد علیحدگی پسند لیڈران، دو مبینہ سنگبازوں اور ایک کشمیری تاجر کی گرفتاری عمل میں لاچکی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ جن افراد کے گھروں یا کاروباری افراد پر بدھ کے روز چھاپے ڈالے گئے، ان میں سے بیشتر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی دوطرفہ تجارت سے وابستہ ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کا ماننا ہے کہ ایل او سی پر تجارت کے ذریعے وادی میں جنگجوؤں اور علیحدگی پسندوں کی فنڈنگ ہورہی ہے اور ایجنسی اس تجارت کو منقطع کرنے کے حق میں ہے۔ تاہم ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پہلے ہی واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہہ چکی ہیں کہ وہ اس تجارت کو کسی بھی صورت میں منقطع ہونے کی اجازت نہیں دیں گی۔

این آئی اے کی چھاپہ مار کاروائیوں کے تازہ مرحلے سے قبل این آئی اے نے 16 اگست کو سری نگر اور شمالی کشمیرکے دو اضلاع بارہمولہ و کپواڑہ میں قریب ایک درجن مقامات پر چھاپہ مار کاروائیاں انجام دی تھیں۔ این آئی اے نے 5 ستمبر کو جنوبی کشمیر میں دو مبینہ سنگبازوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار شندگان جاوید احمد بٹ ساکنہ کولگام اور کامران یوسف (فوٹو جرنلسٹ) ساکنہ پلوامہ کو بدھ کے روز این آئی اے کی خصوصی عدالت نے دس دن تک جانچ ایجنسی کی حراست میں بھیج دیا۔ انہیں مبینہ طور پر سنگ بازی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

این آئی اے نے بدھ کے روز جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن صدر (کشمیر) ایڈوکیٹ میاں قیوم سے نئی دہلی میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹرس پر کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی۔ خیال رہے کہ این آئی اے نے ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں 24 جولائی کو 7 علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرکے نئی دہلی منتقل کیا جہاں انہیں ریمانڈ پر تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔ ان میں حریت (گ) ترجمان ایاز اکبر، مسٹر گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ عرف الطاف فنتوش ، راجہ معراج الدین کلوال(حریت گ ضلع صدر) ،سینئر حریت گ لیڈر پیر سیف اللہ، حریت کانفرنس (ع) ترجمان شاہد الاسلام، نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے شامل ہیں۔ این آئی اے نے 17 اگست کو کشمیری تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی کو نئی دہلی میں گرفتار کیا۔ انہیں بھی دہلی میں ریمانڈ پر جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔

خیال رہے تفتیشی ایجنسی نے بدھ کے روز جموں وکشمیر کی گرمائی دارالحکومت سری نگر اور قومی راجدھانی دہلی میں 27 مقامات پر چھاپے مارے اور اس دوران ان مقامات سے قریب 2 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم کے ساتھ ہی حوالہ کاروبار سے متعلق قابل اعتراض دستاویزات ، کئی لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ہارڈ ڈسک جیسے الیکٹرانک سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کی ایک ٹیم نے جمعرات کی علی الصبح ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ سینئر حریت لیڈر آغا حسن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشیاں شروع کردیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران کسی کو بھی رہائش گاہ سے باہر نکلنے یا اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے اہلکاروں نے آغا حسن کے گھر کی تلاشی لینے سے قبل وہاں موجود تمام افراد کے موبائیل فون چھین لئے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے ٹیم نے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی کے بعد کئی دستاویزات اور دوسری چیزیں اپنے قبضے میں لے لیں۔ آغا حسن کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کاروائی کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے 9 ستمبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی دھرنا دینے اور گرفتاری پیش کرنے کے اعلان کے محض ایک روز بعد انجام دی گئی۔ جس پریس کانفرنس کے دوران علیحدگی پسند قیادت نے یہ اعلان کیا، اس میں حریت لیڈر آغا حسن بھی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز