ٹیرر فنڈنگ کیس : این آئی اے ٹیم کا جموں میں وکیل کے گھر پر چھاپہ ، حراست میں لیا

Jul 30, 2017 08:57 PM IST | Updated on: Jul 30, 2017 08:57 PM IST

جموں: پاکستان سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک ٹیم نے اتوار کے روز سرمائی دارالحکومت جموں کے بخشی نگر میں مقیم ایک سینئر وکیل کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا اور کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی کے بعد انہیں اپنی حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے کی پانچ رکنی ٹیم نے ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں اتوار کو دوپہر کے وقت بخشی نگر علاقہ میں مقیم وکیل دیویندر سنگھ بہل کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا۔

انہوں نے بتایا کہ این آئی اے ٹیم نے مذکورہ وکیل کی رہائش گاہ کی تلاشی کے دوران وہاں موجود دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی کے بعد ایڈوکیٹ دیویندر کو اپنی حراست میں لے لیا۔ ایڈوکیٹ دیویندر سنگھ جموں وکشمیر سوشل پیس فورم نامی تنظیم کے چیئرمین ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے ٹیم نے چھاپے کے دوران ایڈوکیٹ دیویندر کی کچھ ذاتی چیزیں اور کچھ دستاویزات اپنے قبضے میں لے لئے۔ ایڈوکیٹ دیویندر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ دراصل جموں کے سرحدی ضلع راجوری سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ کئی برسوں سے دارالحکومت جموں میں مقیم ہیں۔ مذکورہ ایڈوکیٹ کے مبینہ طور پر کشمیری علیحدگی پسند قائدین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ٹیرر فنڈنگ کیس : این آئی اے ٹیم کا جموں میں وکیل کے گھر پر چھاپہ ، حراست میں لیا

خیال رہے کہ این آئی اے نے ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں 24 جولائی کو 7 علیحدگی پسند لیڈران کو گرفتار کرکے نئی دہلی منتقل کیا جہاں انہیں این آئی اے کی ایک عدالت نے دس دنوں کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ گرفتار شدگان میں حریت (گ) ترجمان ایاز اکبر، مسٹر گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ عرف الطاف فنتوش ، راجہ معراج الدین کلوال(حریت گ ضلع صدر) ،سینئر حریت گ لیڈر پیر سیف اللہ، حریت کانفرنس (ع) ترجمان شاہد الاسلام، نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے شامل تھے۔ این آئی اے نے کشمیر علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں اور دوسرے لوگوں کے گھروں پر گذشتہ ماہ کے اوائل میں چھاپہ ماری کا سلسلہ لگاتار دو دنوں تک جاری رکھا تھا۔

چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران کشمیر، جموں، دہلی اور ہریانہ میں قریب تین درجن جگہوں بشمول کشمیری علیحدگی پسند قائدین و کارکنوں، تاجروں اور مبینہ حوالہ ڈیلروں کے گھروں کی تلاشی لی گئی تھی۔ اگرچہ این آئی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ چھاپوں کے دوران بڑے پیمانے پر نقدی رقوم، سونا اور مشکوک دستاویزات برآمد کئے گئے، تاہم علیحدگی پسند قائدین نے اس دعوے کو یکسر مسترد کیا تھا۔ این آئی اے نے مئی کے تیسرے ہفتے میں علیحدگی پسند رہنماؤں بشمول حریت (گ) چیئرمین مسٹر گیلانی، نیشنل فرنٹ سربراہ نعیم خان، لبریشن فرنٹ (آر) چیئرمین فاروق ڈار عرف بٹہ کراٹے اور تحریک حریت لیڈر غازی جاوید بابا کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کرلیا تھا۔

یہ مقدمہ کچھ علیحدگی پسند راہنماؤں بالخصوص نعیم احمد خان کی جانب سے نئی دہلی سے چلنے والی ایک نجی نیوز چینل کے سٹنگ آپریشن کے دوران وادی میں پتھراؤ، املاک کو نقصان اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کے لئے پاکستان سے رقومات حاصل کرنے کے اعتراف کے بعد درج کیا گیا تھا۔ این آئی کی جانب سے علیحدگی پسندوں کے خلاف درج مقدمے (ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ) کو بعدازاں ایک ریگولر کیس میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ این آئی اے کی ایک ٹیم نے مئی میں جموں وکشمیر کی دارالحکومت سری نگر میں چار روز تک قیام کے دوران نعیم خان، فاروق احمد ڈار (بٹہ کراٹے) اور غازی جاوید سے مسلسل پوچھ گچھ جاری رکھی تھی۔

اس کے بعد تین علیحدگی پسندوں کو نئی دہلی طلب کیا گیا تھا جہاں انہیں ایک بار پھر پوچھ گچھ کے عمل سے گذرنا پڑا تھا۔ کچھ علیحدگی پسند راہنماؤں بالخصوص نعیم احمد خان نے مئی کے دوسرے ہفتے میں نئی دہلی سے چلنے والی ایک نجی نیوز چینل کے سٹنگ آپریشن کے دوران وادی میں پتھراؤ، املاک کو نقصان اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کے لئے پاکستان سے رقومات حاصل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم نعیم خان نے بعدازاں 20 مئی کو ایک پریس کانفرنس کرکے نیوز چینل کے سٹنگ آپریشن کو جھوٹ کا پلندہ اور من گھڑت قرار دیا تھا۔ نعیم خان کی جانب سے نیوز چینل کے سٹنگ آپریشن کو جھوٹ کا پلندہ اور من گھڑت قرار دیے جانے کے باوجود ان کی تنظیم کی بذرگ علیحدگی پسند راہنما مسٹر گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس میں رکنیت کو معطل کیا گیا تھا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز