ٹیرر فنڈنگ کیس : صلاح الدین کے بیٹے شاہد کے بعد اب نواسے مزمل کو تفتیش کیلئے این آئی اے نے کیا طلب

Oct 27, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Oct 27, 2017 07:45 PM IST

سری نگر: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کے بعد ان کے نواسے مزمل احمد خان کو تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے نے مزمل کو طلبی کا سمن ریاستی پولیس کے ذریعے ارسال کردیا ہے۔ مزمل خان کو طلبی کا سمن سید صلاح الدین کے فرزند شاہد یوسف کی نئی دہلی میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پر گرفتاری کے تین روز بعد بھیجا گیا ہے۔ این آئی اے نے جمعرات کو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے سویہ بگ میں شاہد یوسف کے گھر پر چھاپہ مار کروہاں سے پانچ موبائیل فون، 2 ہارڈ ڈسکس ، ایک لیپ ٹاپ اور کچھ مشکوک دستاویزات ضبط کئے تھے۔

شاہد یوسف جو کشمیر میں سرگرم جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں قائم متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کے فرزند ہیں، کو این آئی اے نے 24 اکتوبر کو 2011 ء کے ایک فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایجنسی کے نئی دہلی ہیڈکوارٹر میں طلب کیا تھا لیکن انہیں وہاں ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ شاہد یوسف کو بدھ کے روز نئی دہلی میں ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج کی عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے شاہد کو ایک ہفتے کی ریمانڈ پر این آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

ٹیرر فنڈنگ کیس : صلاح الدین کے بیٹے شاہد کے بعد اب نواسے مزمل کو تفتیش کیلئے این آئی اے نے کیا طلب

سید صلاح الدین کی فائل فوٹو۔

ذرائع نے بتایا کہ جس کیس میں سید صلاح الدین کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ حزب المجاہدین کی فنڈنگ سے متعلق ہے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ اعجاز احمد بٹ نامی شخص امریکہ میں قائم انٹرنیشنل وائر ٹرانسفر کمپنی کے توسط سے شاہد کو رقومات منتقل کرتا تھا۔ ایجنسی نے اعجاز کو کیس میں مفرور قرار دیا ہے اور اسے شبہ ہے کہ وہ سعودی عرب میں مقیم ہے۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہد نے انٹرنیشنل وائر ٹرانسفر کے توسط سے قریب ساڑھے چار لاکھ روپے وصول کئے تھے اور یہ پیسے کشمیر میں گڑ بڑ پھیلانے کے لئے پاکستان سے حوالہ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایجنسی نے اس سلسلے میں اپریل 2011 میں ایک کیس درج کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجیت سنگھ کی جانب سے شاہد یوسف کے نام گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے سمن میں کہا گیا تھا ’آپ کو (2011 ء کے کیس کے سلسلے) میں بعض سوالوں کے جواب کے لئے طلب کیا جارہا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ شاہد کو سمن میں 16 اکتوبر کو سری نگر اور بعدازاں 24 اکتوبر کو نئی دہلی میں این آئی اے کے سامنے حاضر ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ شاہد کو نئی دہلی ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے سے قبل سری نگر کے مضافاتی علاقہ ہمہامہ میں واقع این آئی اے کے دفتر پر چار مرتبہ حاضر ہونا پڑا تھا۔ شاہد یوسف جموں وکشمیر حکومت کے محکمہ زراعت میں ملازمت کررہے ہیں۔ ان کے والد سید صلاح الدین انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر منتقل ہوئے تھے۔

دریں اثنا بذرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے سید صلاح الدین کے گھر پر این آئی اے کی جانب سے چھاپہ کی کاروائی اور ان کے نواسے مزمل احمد خان کو دہلی طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کاروائیاں سیاسی انتقام گیری کے نتیجے میں عمل میں لائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے مزمل احمد خان ،کو این آئی اے کی جانب سمن جاری کرنے اور دہلی بلانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک طالب علم ہیں اور اس طرح انہیں تنگ طلب کرکے ان کے تعلیمی کیرئر کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے ۔ مسٹر گیلانی نے سید صلاح الدین کے خلاف اس طرح کی کاروئیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے سلسلے میں ان کی جدوجہد پر اثر انداز ہونے کے لئے ایسے بہیمانہ ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے حکام کی ایماء پر مزمل احمد خان کے خلاف سمن جاری کرکے ایک جانب ان کے اہل خانہ کو ذہنی کوفت کا شکار بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز