ٹیرر فنڈنگ : کشمیر بار ایسوسی ایشن صدر کو این آئی اے نے پھر کیا طلب ، وکلاء کا ہڑتال پر جانے کا اعلان

Sep 13, 2017 10:02 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 10:02 PM IST

سری نگر: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کو ایک بار پھر تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے۔ میاں قیوم کو جمعرات (14 ستمبر کو)نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔ ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ’ایڈوکیٹ قیوم کو پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ اور علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے این آئی اے کی جانب سے شروع کردہ تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لئے ایک بار پھر نئی دہلی طلب کیا گیا ہے‘۔

اس دوران کشمیر میں وکلاء نے این آئی اے کی طرف سے ایڈوکیٹ میاں قیوم کو ایک بار پھر نئی دہلی طلب کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 14 ستمبر سے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ٹیرر فنڈنگ : کشمیر بار ایسوسی ایشن صدر کو این آئی اے نے پھر کیا طلب ، وکلاء کا ہڑتال پر جانے کا اعلان

قومی تفتیشی ایجنسی ، علامتی تصویر

کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک رکن نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے ایڈوکیٹ قیوم کو بلاوجہ ہراسان کرنے اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف ہڑتال پر جانے کا فیصلہ متفقہ طور پر لیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’ہائی کورٹ وکلاء کے ساتھ ساتھ تمام ضلع اور منصف بار ایسوسی ایشنزجمعرات سے اپنی معمول کی سرگرمیاں معطل رکھیں گے‘۔

کشمیر بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ قیوم کو اس سے پہلے 6 ستمبر کو نئی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس پر طلب کیا گیا جہاں انہیں مسلسل کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ این آئی اے کی طلبی کے خلاف کشمیر میں وکلاء نے 8 ستمبر تک مسلسل چار روز تک اپنی معمول کی سرگرمیاں معطل رکھی تھیں۔

این آئی اے پہلے ہی متعدد علیحدگی پسند لیڈران، دو مبینہ سنگبازوں اور ایک کشمیری تاجر کی گرفتاری عمل میں لاچکی ہے۔ این آئی اے نے 5 ستمبر کو جنوبی کشمیر میں دو مبینہ سنگبازوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار شندگان جاوید احمد بٹ ساکنہ کولگام اور کامران یوسف (فوٹو جرنلسٹ) ساکنہ پلوامہ کو گزشتہ ہفتے این آئی اے کی خصوصی عدالت نے دس دن تک جانچ ایجنسی کی حراست میں بھیج دیا۔ انہیں مبینہ طور پر سنگ بازی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز