نربھیا کیس : نظر ثانی کی عرضی خارج ہونے کے بعد اب قصورواروں کے پاس بچے ہیں صرف یہ دو آپشنز

چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس معاملے میں پھانسی کی سزا کو عمر قیدمیں تبدیل کرنے کی پون، ونے اور مکیش کی نظر ثانی کی عرضی کو مسترد کردیا۔

Jul 09, 2018 07:45 PM IST | Updated on: Jul 09, 2018 07:46 PM IST

نئی دہلی: 2012 کے نربھیا اجتماعی عصمت دری کیس میں تین قصورواروں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست آج سپریم کورٹ کے ذریعہ مسترد کردئے جانے کے بعد اب ان کے پاس کیوریٹیو پٹیشن دائر کرنے اور صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرنے کا ہی متبادل باقی رہ گیا ہے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس معاملے میں پھانسی کی سزا کو عمر قیدمیں تبدیل کرنے کی پون، ونے اور مکیش کی نظر ثانی کی عرضی کو مسترد کردیا۔عدالت نے تینوں کی نظرثانی کی عرضی پر چار مئی کو سماعت کرکے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس معاملے میں چوتھے قصوروار اکشے نے نظرثانی کی عرضی داخل نہیں کی تھی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد تینوں قصورواروں کے پاس اب کیوریٹیو پٹیشن اور اس کے بعد صدر جمہوریہ کے پا س رحم کی درخواست کا متبادل ہی رہ جاتا ہے۔

نربھیا کیس : نظر ثانی کی عرضی خارج ہونے کے بعد اب قصورواروں کے پاس بچے ہیں صرف یہ دو آپشنز

اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے۔

آج فیصلہ سنانے والی بنچ کے دیگر اراکین میں آر بھانومتی اور اشوک بھوشن شامل تھے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال پانچ مئی کو دئے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نربھیا اجتماعی عصمت دری کے چاروں قصورواروں مکیش، ونے ، اکشے اور پون کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ دی گئی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

قصورواروں کی نظر ثانی کی عرضی پر فیصلہ سنائے جانے کے دوران نربھیا کے خاندان والے بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے۔عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد نربھیا کے والدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ پھانسی میں طویل عرصہ نہیں لگنا چاہئے ، تبھی مکمل انصاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو پھانسی کی سزا ہونے سے مجرموں میں خوف پیدا ہوگا۔ نربھیا کے والد نے کہا کہ آج بھی بیٹیوں کے ساتھ جرائم ہورہے ہیں۔ ایسے میں جلد سے جلد ان قصورواروں کو پھانسی دی جائے ۔ جس سے سماج میں پیغام جائے اور ایسی حرکت کرنے والے ڈریں۔ انہوں نے نظر ثانی کی عرضی مسترد کرنے پر عدالت کے تئیں ممنونیت کا اظہار کیا۔

Loading...

خیال رہے کہ دارالحکومت میں 16 دسمبر کی رات چلتی بس میں نربھیا کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے ایک دوست کے ساتھ بس میں سوار ہوکر منیرکا سے دوارکارجارہی تھی۔ لڑکی کے بس میں بیٹھتے ہی تقریباً پانچ سے سات لوگوں نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ لڑکی کے دوست نے اسے بچانے کی کوشش کی ، لیکن ان لوگوں نے اس کے ساتھ بھی مار پیٹ کی اورلڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ بعد میں ان لوگوں نے لڑکی اور اس کے دوست کو جنوبی دہلی کے مہیپال پور کے نزدیک وسنت وہار علاقہ میں بس سے پھینک دیا ۔ متاثر ہ لڑکی کو ناز ک حالت میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ واردات کے خلاف اگلے ہی دن کئی لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپناغصہ ظاہر کرنا شروع کردیا ۔ اس دوران متاثر ہ لڑکی کی حالت نازک ہوتی چلی گئی ۔

اسے 27دسمبر 2012کو علاج کے لئے سنگا پور لے جایا گیا ، جہاں 29دسمبر کی رات اس کی موت ہوگئی۔ اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے۔دہلی پولیس نے اس معاملے میں تمام ملزمین کو گرفتار کرلیا ۔ تاہم مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔اس معاملے کے اصل ملزم رام سنگھ نے گیارہ مارچ2013کوتہاڑ جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز